سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 364 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 364

سيرة النبي الله 364 جلد 2 یہ معاملہ آگیا کہ ایک ہائی کورٹ کے جج کی ہتک کے الزام میں تو ہائی کورٹ نے ایک ہفتہ کے اندر اندر سزا دے دی لیکن رسول کریم ع کی ہتک کرنے والا دو اڑھائی سال مقدمہ بھگت کر بالکل بری ہو گیا۔جو ایک ایسا امر ہے کہ جس کی وجہ سے مسلمانوں کی طبائع میں جوش پیدا ہونا لازمی بات ہے۔وہ حیران ہیں اس قانون اور اس انتظام پر کہ ایک حج کی ہتک کا اثر تو ہائی کورٹ پر اتنا پڑا کہ ہفتہ کے اندر اندر ایڈیٹر اور پرنٹر مسلم آؤٹ لگ کو جیل خانہ میں بھیج دیا مگر محمد ﷺ کی ہتک کرنے والا مہینوں آزاد پھرتا رہا اور آخر بالکل آزاد ہو گیا۔پھر یہاں کہنے والا تو صرف یہ کہتا ہے کہ حج کو مستعفی ہو جانا چاہئے اور اس کی تحقیقات ہونی چاہئے کہ کن حالات کے ماتحت یہ فیصلہ ہوا۔مگر وہاں گندی سے گندی گالیاں دی گئی ہیں پھر جس انسان کو گالیاں دی گئی ہیں وہ ہستی ہے کہ جس کے لئے کروڑوں انسان قربان ہونے کے لئے تیار ہیں اور جس کے تقدس پر کروڑوں انسان یقین رکھتے ہیں۔لیکن جس کی ہتک کا مجرم ایڈیٹر مسلم آؤٹ لگ قرار دیا گیا ہے اس سے ایک آدمی بھی اس قسم کا اخلاص نہیں رکھتا۔پھر ایک طرف گندی گالیاں ہیں اور دوسری طرف یہ کہ جن حالات میں فیصلہ کیا گیا ہے ان کی تحقیقات کی جائے۔بے شک اس کے سخت معنی بھی ہو سکتے ہیں جو جوں نے لئے ہیں مگر اچھے بھی ہو سکتے ہیں۔میں کوئی قانون دان نہیں مگر جہاں تک مجھے معلوم ہے عدالتیں شک کا فائدہ ملزم کو ہی دیتی ہیں مگر مسلم آؤٹ لگ“ کے مقدمہ میں ایسا نہیں ہوا اور مسلمانوں کی طبائع میں ہیجان پیدا ہونا قدرتی بات ہے۔لیکن پھر بھی اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اگر اسلام اور شریعت کی عزت کو قائم رکھنا ہے تو اسلام جب یہ کہتا ہے کہ حکومت کے قانون کی پابندی کرو تو ضرور کرنی چاہئے۔اگر ہمارے جوش اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں تو اس کے قانون کی پابندی کرنا بھی ہمارا فرض صلى الله ہے۔رسول کریم علیہ سے ہماے دوستم کے تعلقات ہو سکتے ہیں۔ایک حقیقی جو آپ کی تعلیم کو مدنظر رکھتے ہوئے ہوں اور دوسرے وہ جو ورثہ میں ملے ہوں یعنی ماں باپ