سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 365 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 365

سيرة النبي عل الله 365 جلد 2 کی طرف سے رسول کریم ﷺ کی محبت ملی ہو۔اب اگر ہم جوش اور غصے کی حالت الله میں رسول کریم ﷺ کی تعلیم کو بھول جاتے ہیں تو آپ سے ہمارا تعلق حقیقی نہیں ہوگا بلکہ ورثہ کا ہوگا۔لیکن اگر جوش کے وقت ہم آپ کی تعلیم کو مدنظر رکھتے ہیں تو پھر ہمارا آپ سے حقیقی تعلق ہو گا۔اور یہی فخر اور خوشی کی بات ہے۔وہ محبت کوئی محبت نہیں جو ماں باپ سے ورثہ میں ملی ہو۔محبت وہی ہے جو اپنے دماغ اور عقل سے ملی ہو۔اس وقت میں اپنی جماعت کو اور دوسرے انسانوں کو جن میں سے میں دیکھ رہا ہوں کہ ہزاروں میری بات کو توجہ سے سن رہے اور قبول کر رہے ہیں نصیحت کرتا ہوں کہ اس وقت اسلام پر سب سے زیادہ نازک زمانہ آیا ہوا ہے۔اس وقت تمہیں یہ ثابت کر دینا چاہئے کہ ہم محمد ﷺ کی تعلیم پر چلتے ہوئے کسی قسم کے فساد کے لئے تیار نہیں۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں مکمل شریعت دی ہے اور مکمل دماغ دیا ہے۔اس کے ہوتے ہوئے یہ کہنا کہ مسلمان عقل سے کام نہیں لے سکتے دیوانہ پن ہے۔کیا خدا تعالیٰ نے ہمیں کوئی الله ایسے سامان نہیں دیئے کہ ہم محمد ﷺ کی تعلیم پر چلتے ہوئے آپ کی عزت کو بچا سکیں ؟ اگر فی الواقعہ نہیں دیئے تو اس کا یہ مطلب ہوا کہ خدا تعالیٰ نے نعوذ باللہ محمد ﷺ کو چھوڑ دیا ہے۔ورنہ کیا وجہ ہے کہ آپ کی عزت کے بچانے کے لئے کوئی سامان نہ دیجیے ہوں۔پس مسلمانوں کو چاہئے کہ رسول کریم ﷺ کی عزت کو بچانے کے لئے غیرت دکھا ئیں مگر ساتھ ہی یہ بھی دکھا دیں کہ ہر ایک مسلمان اپنے نفس کو قابو میں رکھتا ہے اس سے مغلوب نہیں ہوتا۔جب مسلمان یہ دکھا دیں گے تو دنیا ان کے مقابلہ سے خود بخود بھاگ جائے گی کیونکہ دنیا دار اسی کے مقابلہ میں کھڑے ہوتے ہیں جس کی نسبت جانتے ہیں کہ اس کا نفس اس کے قابو میں نہیں۔چھوٹے بچوں سے فطرت صحیح کا خوب پتہ لگتا ہے۔بچے اسی کو چڑاتے ہیں جو ان کی باتوں سے چڑے۔بچے چڑنے والے کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔لیکن اگر کوئی نہ چڑے تو پیچھے نہیں پڑتے۔مجھے یاد ہے بچپن میں لڑکے مجھے میاں صاحب میاں صاحب کہتے تھے۔اور میاں چونکہ ملا کو کہتے ہیں