سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 363 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 363

سيرة النبي عمال 363 جلد 2 چڑنے والے لوگ ہیں ورنہ یہ بھی کوئی بات ہے جس کی شکایت کر رہے ہیں۔اس حالت میں ہمارے لئے نہایت ضروری ہے کہ ہم اپنے جذبات و احساسات کو اپنے قبضہ میں رکھیں۔پس میں اپنی جماعت کے لوگوں کو اور ان دوسرے مسلمانوں کو جو۔میری باتیں توجہ سے سنتے اور ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں کہتا ہوں کہ اس وقت جوش میں لانے اور بھڑ کانے والی باتیں مفید نہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اس جوش کو قابو میں رکھ کر مستقل قربانی کی جائے۔جو لوگ اسلام کے لئے مستقل قربانی نہیں کر سکتے ان کا جوش حقیقی جوش نہیں ہے بلکہ دھوکا اور فریب ہے۔ابھی ہمارا ایک بھائی اور اس کا ایک رشتہ دار قید خانہ میں گئے ہیں محض اس لئے کہ انہوں نے ہائیکورٹ کے جوں کے نزدیک ایک حج کی ہتک کی ہے۔میں ہرگز ان جوں سے اتفاق نہیں کرتا اور میرے نزدیک مسلم آؤٹ لگ (Muslim OutLook) نے ہرگز ہتک نہیں کی۔میں تو یہ کہتا ہوں بجائے اس کے کہ مسلم آؤٹ لگ کو اس مضمون کی وجہ سے سزا دی جاتی جوں کو چاہئے تھا کہ اس کی آواز کی قدر کرتے جو رسول کریم ﷺ کی عزت کو محفوظ رکھنے کے لئے اٹھائی گئی تھی۔مگر جوں کا ادھر ذہن منتقل نہ ہوا بلکہ اس طرف گیا کہ مسلم آؤٹ لگ نے حج کی ہتک کی ہے۔اس وجہ سے مسلم آؤٹ لگ کے ایڈیٹر و پرنٹر کو سزا دے دی۔حالانکہ جوشخص اس مضمون کو ٹھنڈے دل سے پڑھے گا یا ان جذبات کو مدنظر رکھ کر پڑھے گا جو ایک مسلمان کے ہوں وہ ہر گز نہیں سمجھ سکتا کہ اس میں حج کی ہتک کس طرح ہوئی ہے۔میرے نزدیک مسلم آؤٹ لگ کا یہ جرم نہیں تھا بلکہ اس نے قابل تعریف بات کی تھی کہ رسول کریم ﷺ کے متعلق غیرت دکھائی تھی۔ہر مذہب کے آدمی کو اس کی قدر کرنی چاہئے تھی کہ آؤٹ لگ کا ایڈیٹر اپنے رسول کے متعلق وفا دار انسان ہے اور وفاداری پر کوئی ناراض نہیں ہوا کرتا۔مگر جوں کے نزدیک یہی بات ثابت ہوئی کہ اسے سزا دینی چاہئے۔اس وجہ سے مسلمانوں میں اور جوش پیدا ہو گیا۔اور اب ان کے سامنے