سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 362 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 362

سيرة النبي علم 362 جلد 2 محبت رکھنے والی قوم کے لئے سمجھنا مشکل ہے جب ایک قوم کی قوم دیدہ دانستہ مسلمانوں کو بھڑ کانے کے لئے ان کی محبوب ترین ہستی کو گالیاں دیتی ہے اس وقت مسلمانوں کے حال کو وہی سمجھ سکتا ہے جو انسانی فطرت سے واقف ہو۔کتنی مشکل بات ہے۔اگر مسلمان گالیوں کا جواب گالیوں سے دیتے ہیں تو اس کی اسلام اجازت نہیں دیتا اور اگر چپ رہتے ہیں تو ان کی آئندہ نسل میں بے غیرتی پیدا ہونی لازمی ہے۔کیونکہ جو قوم اپنے بزرگوں کے متعلق گالیاں سن کر چپ رہتی ہے اس میں بے غیرتی پیدا ہو جاتی ہے۔غرض آج اگر مسلمان آریوں کی گالیوں کے مقابلہ میں چپ رہتے ہیں تو آئندہ نسلیں بے حیا اور بے غیرت ہو سکتی ہیں۔اور اگر جوش اور غصہ کا اظہار کرتے ہیں تو اس کے لئے صحیح اظہار کا موقع نہیں ملتا۔مسلمانوں اور ہندوؤں کی اپنی حکومتیں نہیں کہ ایک دوسرے پر فوج لے کر چڑھ دوڑیں۔دونوں غیر قوموں کے ماتحت ہیں اور جب کہ ہمارے نزدیک محمد ﷺ کو گالیاں دینا بدترین فعل ہے اس حکومت کے نزدیک معمولی بات ہے بلکہ ممکن ہے حکومت کے بعض عمال کے نزدیک اچھی بات ہو۔بعض شریف الطبع انگریز رسول کریم ﷺ کے خلاف بد زبانی سن کر غصہ صلى الله میں آجاتے ہیں اور رسول کریم ﷺ کی عزت کا خیال رکھنا ضروری سمجھتے ہیں۔گو اس طرح نہیں جیسے مسلمان۔مگر پھر بھی کئی ایسے ہو سکتے ہیں جو حیران ہوتے ہوں کہ محمدعلی کو گالیاں دینا کونسی ایسی بات ہے جس پر مسلمان اس قد رغم وغصہ کا اظہار کرتے ہیں۔ایسی حالت میں مسلمانوں کے لئے کس قدر مشکلات ہیں۔قانون ہمارے اختیار میں نہیں کہ اس کے ذریعہ جوش نکال سکیں اور خاموش اس لئے نہیں رہ سکتے کہ آئندہ نسلیں تباہ نہ ہو جائیں اور ان میں بے غیرتی نہ پیدا ہو جائے۔قانون ایک ایسی قوم کے ہاتھ میں ہے جس کے احساسات شریفانہ طور پر خواہ ہمارے ساتھ کتنے ہی ملتے ہوں مگر ہمارے جیسے نہیں ہو سکتے۔اس وجہ سے بسا اوقات کسی امر کے متعلق گورنمنٹ کو توجہ دلا نا بے فائدہ ہوتا ہے۔اور بسا اوقات حکام سمجھتے ہیں یہ ذرا ذرا سی بات پر