سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 361 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 361

سيرة النبي ع 361 جلد 2 انسان پر حملے کئے جاتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا اعلیٰ سے اعلیٰ اور بہترین نمونہ ہے جس سے بڑھ کر انسان میں طاقت ہی نہیں ، اگر صحیح ہے تو پھر غصہ اور جوش کے وقت ہمارے مدنظر یہ بات رہنی چاہئے کہ اس غصہ پر بھی اسی انسان کی حکومت قائم ہو جس کی حکومت ہمارے سکون اور اطمینان پر ہے۔اسی طرح اگر ہمارا غصہ اور جوش اسلام کے لئے ہے تو وہ اسلامی احکام کے ماتحت ہونا چاہئے اور اسلام جہاں یہ کہتا ہے کہ خدا اور اس کے رسول کے لئے غیرت دکھاؤ ، اسلام جہاں یہ حکم دیتا ہے کہ جس دل میں خدا اور رسول کی محبت کسی اور چیز سے کم ہے اس میں ایمان ہی نہیں وہ خدا کے غضب کے نیچے ہے جس کا اسے انتظار کرنا چاہئے کہ وہ آئے اور اسے تباہ کر ڈالے وہاں اسلام یہ بھی کہتا ہے کہ اعلیٰ اخلاق کو کسی حالت میں بھی نہ چھوڑو۔خواہ غصہ میں ہو یا آرام میں۔پس میں اپنی جماعت کے لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ ان خطرناک دنوں میں اپنے جوشوں کو قابو میں رکھیں اور بجائے کسی اور طرح نکالنے کی کوشش کرنے کے اس طرح نکالیں جس سے اسلام کو فائدہ پہنچے۔دیکھو! راجباہوں کے ذریعہ بھی پانی کھیتوں میں پہنچتا ہے مگر بند تو ڑ کر آنے والا پانی کھیتی کو تباہ اور برباد کر دیتا ہے اور راجباہ کا پانی کھیت کو سیراب کرتا ہے۔اسی طرح غصہ کی حالت کی کارروائی ایسی ہوتی ہے جیسے نہر کا کنارہ ٹوٹ جانے سے پانی کا نکلنا یا دریا کا اچھل پڑنا۔کوئی انسان اس بات پر خوش نہیں ہو سکتا کہ دریا میں طغیانی آئی کیونکہ طغیانی بر بادی اور تباہی کا موجب ہوتی ہے۔اسی طرح غصے کی کارروائی بھی تباہی لاتی ہے۔جوش اور غیرت قابل قدر جذبات ہیں مگر اسی حد تک کہ عقل پر پردہ نہ ڈالیں۔اگر پردہ ڈالیں تو انسان صحیح طور پر کام نہیں کر سکتا۔اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اصل کام کرنے سے محروم رہ جاتا ہے۔جو لوگ جلدی جوش میں آجاتے ہیں وہ جلدی ٹھنڈے بھی ہو جاتے ہیں اور جو جوش میں کم آتے ہیں وہی کام کرتے ہیں۔اس خطرناک وقت میں جس سے زیادہ خطرناک وقت رسول کریم ہے۔