سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 360 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 360

سيرة النبي عالم 360 جلد 2 حملوں سے بہت بڑھے ہوئے ہیں۔حالانکہ موجودہ حالت ان باتوں کی متقاضی نہ تھی جو اسلام کے خلاف دشمن کر رہے ہیں۔پہلے جب رسول کریم ﷺ کے خلاف کتابیں لکھی جاتی تھیں اُس وقت تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ تعلیم کہ تمام دنیا میں نبی آئے قائم نہ ہوئی تھی بلکہ اس وجہ سے آپ پر کفر کے فتوے دیئے جاتے تھے۔مگر پھر آپ کی اس تعلیم نے گھر کرنا شروع کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج وہ لوگ جو اس وجہ سے آپ پر کفر کے فتوے لگاتے تھے اسے اسلام کی طرف سے پیش کر رہے ہیں اور مسلمانوں کا بیشتر حصہ اس بات پر قائم ہو گیا ہے کہ ہندوؤں کے بزرگ بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے آئے تھے اور ان کی ہتک نہ کرنی چاہئے۔لیکن کس قدر افسوس کی بات ہے کہ اس وقت جب کہ مسلمان ہندوؤں کے بزرگوں کی تعریف کی طرف متوجہ ہورہے ہیں ایسی کتابیں آریوں کی طرف سے شائع ہو رہی ہیں جن میں مسلمانوں کی دل آزاری کی جارہی ہے۔ان حالات میں اگر مسلمانوں کے دلوں میں ہندوؤں کے متعلق نفرت اور غصہ کی لہر پیدا ہو تو کوئی حیرت کی بات نہیں لیکن میں مسلمانوں سے کہوں گا کہ ہر غصہ کے وقت جو لہر دل میں پیدا ہو اس کے متعلق سوچنا چاہئے کہ کس بات کے لئے غصہ اور جوش پیدا ہوا ہے۔اگر جوش اور غصہ اپنے نفس کے لئے پیدا ہوا ہے تو پھر جونس کے اسے مان لینا چاہئے۔اگر ہمارا میڈا وغضب اپنی ذات کے لئے ہے تو پھر جو نفس کہتا ہے کرنا چاہئے اور اگر نفس کہتا ہے گالیاں دو تو گالیاں دینی چاہئیں، اگر نفس غصہ ہونے کے لئے کہتا ہے تو غصہ ہونا چاہئے لیکن ہمارا غصہ، ہمارا غضب، ہماری غیرت اور ہمارا جوش اپنے نفس اور اپنی ذات کے لئے نہیں بلکہ اس لئے ہے کہ جس کی ہتک کی جاتی ہے وہ ایسی اعلیٰ تعلیم لے کر آیا کہ یہ گالیاں دینے والے اس تعلیم کے کناروں تک تو کیا اس کی ادفی حد تک بھی نہیں پہنچے۔اور اگر ہمارا جوش اس لئے ہے کہ وہ انسان جسے دشمن بدنمونہ کے طور پر پیش کرتے ہیں اس کے بغیر کوئی انسانیت ہی نہیں اور کوئی روحانی رتبہ ہی نہیں۔پھر اگر ہمارا جوش اور غصہ اس لئے ہے کہ جس