سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 355
سيرة النبي عالم 355 جلد 2 ہوں یہ بھی ہے کہ مسلم آؤٹ لگ کے ایڈیٹر اور مالک کے قید ہونے کے مثلاً پورے ایک ماہ بعد یعنی 22 جولائی کو جمعہ کے دن ہر مقام پر ایک جلسہ کیا جائے جس میں مسلمانوں کی اقتصادی اور تمدنی آزادی کے متعلق مسلمانوں کو آگاہ کیا جائے اور سب سے وعدہ لیا جائے کہ وہ اپنے حلقہ میں تبلیغ اسلام کا کام جاری کریں گے۔اور ہندوؤں سے ان امور میں چھوت چھات کریں گے جن میں ہندو ان سے چھوت چھات کرتے ہیں۔اسی طرح یہ کہ وہ اپنی تمدنی اور اقتصادی زندگی کے لئے پوری سعی کریں گے، اپنے قومی حقوق کو قوانین حکومت کے ماتحت حاصل کرنے کی پوری کوشش کریں گے، اسلامی فوائد میں سب مل کر کام کریں گے اور اسی دن ہر مقام پر ایک مشتر کہ انجمن بنائی جائے جو مشترکہ فوائد کے کام کو اپنے ہاتھ میں لے۔اسی طرح اس دن تمام لوگ مل کر گورنمنٹ سے درخواست کریں کہ ہائی کورٹ کی موجودہ صورت مسلمانوں کے مفاد کے خلاف ہے اور ان کی ہتک کا موجب۔پچپن فیصدی آبادی والی قوم کے گل دو حجج ہیں اور ان میں سے ایک سروس سے لیا ہوا اور ایک صوبہ سے باہر سے لایا ہوا۔اس میں مسلمان اپنی ہتک محسوس کرتے ہیں۔یہ سمجھنا کہ ہر شعبہ کے لئے مسلمان قابل سے قابل مل سکتے ہیں لیکن حج نہیں مل سکتا ہماری سمجھ سے باہر ہے۔گورنمنٹ نے جو کچھ کیا انصاف ہی سے کیا ہو گا مگر ہمارے نزدیک اس معاملہ میں مسلمانوں کے حقوق پر کافی غور نہیں کیا گیا اور اس کا ازالہ جلد سے جلد ضروری ہے اور اس کے لئے ہم با ادب یہ درخواست کرتے ہیں کہ کم سے کم ایک مسلمان حج پنجاب کے بیرسٹروں میں سے اور مقرر کیا جائے اور اسے نہ صرف مستقل کیا جائے بلکہ دوسرے جوں سے اس طرح سینئر کیا جائے کہ سر شادی لال صاحب کے بعد وہی چیف جج ہو۔اسی طرح ایک جلسہ میں حاضرین سے دستخط لے ایک محضر نامہ کی ضرورت کر ایک محضر نامہ تیار کیا جائے کہ ہمارے نزدیک مسلم آؤٹ لگ کے ایڈیٹر اور مالک نے ہرگز عدالت عالیہ کی ہتک نہیں کی بلکہ جائز