سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 351 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 351

سيرة النبي عمال 351 جلد 2 خاص اس غرض سے جاتا ہے۔عام طور پر ہندو آڑھتی ہر مسلمان زمیندار سے ہر سودے کے وقت ایک مقررہ رقم لیتا ہے کہ اتنی گئو شالہ کے لئے ہے، اس قدر دھرم ارتھ کے لئے ، اتنی تیموں کے لئے۔اور اس سے مراد مسلمان یتیم خانے اور مسلمانوں کے کام نہیں ہوتے بلکہ خاص ہندوؤں کے کام ہوتے ہیں۔اب غور کرو کہ پنجاب میں کس قدر رقم مسلمان خالص ہندو کاموں کے لئے دیتے ہیں۔پس جب تک مسلمان ان رقوم کو بند نہ کریں گے اور اپنی رقوم کو اسلام کی ترقی کے لئے خرچ نہیں کریں گے وہ پرو پیگنڈا جو رسول کریم ﷺ کی ذات بابرکات کے خلاف ہو رہا ہے کبھی بند نہ ہو گا۔لوگ کہتے ہیں مٹھائیاں و برف وغیرہ کہاں سے لیں۔میں کہتا ہوں اے بھائیو! تمہارے بھائی اسلام کی عزت کے لئے برفوں سے نہیں اپنے بیوی بچوں کی صحبتوں سے بھی محروم ہو گئے ہیں کیا تم برف اور مٹھائی ترک نہیں کر سکتے۔اور کیا مسلمان کا دماغ اور سب کام کر سکتا ہے مگر یہ کام نہیں کر سکتے۔دوسرا کام جو حقیقی کام ہے لیکن ابتداء اس کا اثر ہندوؤں پر ایسا نہ ہو گا جیسا کہ پہلے کام کا ، وہ تبلیغ اسلام ہے۔ہندوؤں کو رسول کریم علی کی ذات کے خلاف حملہ کرنے کی جرات صرف اس خیال سے ہے کہ وہ خیال کرتے ہیں کہ وہ ہندوستان میں خالص ہندو مذہب قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔اگر ہم تبلیغ کے کام کو خاص زور سے اختیار کریں تو اسلام میں ایسی طاقت ہے کہ کوئی مذہب اس کے مقابلہ میں ٹھہر ہی نہیں سکتا۔پس یقیناً اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ بہت جلد بہت سی ہندو اقوام جو برہمنک اصول مدارج سے تنگ آ چکی ہیں اسلام میں داخل ہونے لگیں گی اور ہندوؤں کو معلوم ہو جائے گا کہ مسلمانوں کو ہندو بنا لینے کا خیال تبلیغ اسلام بالکل وہم ہے اور خود بخود ان کا جوش ٹھنڈا ہو جائے گا۔سیاسی حقوق کا فیصلہ تیسری تدبیر یہ ہے کہ مسلمان اپنے سیاسی حقوق کا استقلال سے مطالبہ کریں۔میں حیران ہوں کہ مسلمان