سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 345
سيرة النبي ع 345 جلد 2 میں ہی عدالت کا مقاطعہ ، مقاطعہ کہلا سکتا ہے۔لیکن کیا ایسا مقاطعہ ہم سے ممکن ہے؟ ایک وقت میں ایسے سینکڑوں کیس عدالت میں داخل ہوتے ہیں جن کا ہزاروں مسلمانوں پر اثر پڑتا ہے۔پس کیا یہ بات اسلام کے فائدہ کی ہوگی کہ ہزاروں غریب مسلمان اس مقاطعہ کی وجہ سے جیل خانہ میں جائیں اور ہزاروں مسکینوں، غریبوں، بیواؤں، یتیموں کے حقوق عدم پیروی کی وجہ سے تلف ہو کر غیر قوموں کو مل جائیں؟ اس طریق کا نتیجہ صرف یہ ہوگا کہ مسلمان جو آگے ہی اقتصادی طور پر تباہ ہو رہے ہیں بالکل تباہ ہو جائیں گے۔پس ہمیں اس تدبیر کو ہرگز اختیار نہیں کرنا چاہئے جس سے رسول کریم علیہ کی عزت کی حفاظت کی صورت پیدا نہیں ہوتی۔تکرار فعل دوسرا طریق یہ بتایا جا تا ہے کہ مسلمان اس فعل کو متواتر کریں جو مسلم آؤٹ لگ والوں نے کیا ہے۔میرے نزدیک یہ طریق بھی مسلمان علاوہ قانون شکنی کے پہلے یہ فعل قانون شکنی نہ تھا لیکن اب ہائی کورٹ کے فیصلہ کے بعد یہ فعل قانون شکنی ہو گیا ہے ) اپنی ذات میں بے فائدہ ہے۔ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہائی کورٹ اس امر کا پابند نہیں کہ اس شخص پر مقدمہ چلائے جو اس کی نظر میں عدالت کی ہتک کرنے والا ہے۔اگر وہ اس کا پابند ہوتا تو کہا جا سکتا تھا کہ لاکھوں ن مسلم آؤٹ لگ کی نقل کریں۔ہائی کورٹ کہاں تک لوگوں کو جیل خانہ میں ڈالے گا۔آخر تنگ آ جائے گا۔لیکن جب کہ وہ ہر ایک پر مقدمہ چلانے کا پابند نہیں تو وہ صرف یہ طریق اختیار کرے گا کہ بڑے بڑے لوگوں کو پکڑے گا دوسروں کے فعل کو نظر انداز کر دے گا۔اس سے صرف مسلمان کمزور ہو جائیں گے اور کچھ فائدہ نہ ہو گا۔مثلاً مسلمانوں کے لاہور میں چار روزانہ اخبارات ہیں اگر روزانہ ان میں مسلم آؤٹ لگ کے نوٹ کے ہم معنی نوٹ شائع ہوں تو ہر روز چار آدمیوں پر ہائیکورٹ مقدمہ چلائے گا۔ان چار آدمیوں کو یا آٹھ آدمیوں کو روزانہ گرفتار کر کے بھی ہائی کورٹ کو کیا نقصان پہنچے گا۔اور پھر اس طریق سے اسلام کو کیا فائدہ ہوگا۔اگر چھوٹے چھوٹے آدمیوں کو