سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 344
سيرة النبي علي 344 جلد 2 اور پیشتر اس کے کہ میں اپنے خیالات کو بیان کروں میں ان تین امور پر جو اس وقت تک بطور علاج کئے گئے بحث کرنی چاہتا ہوں۔عدالتوں سے مقاطعہ ایک علاج بعض لوگوں نے یہ تجویز کیا ہے کہ ہم عدالت عالیہ سے مقاطعہ کریں۔میرے نزدیک علاج وہ ہوتا ہے جس کا ہمیں فائدہ پہنچے۔لیکن اگر اس علاج پر غور کیا جائے تو بجائے فائدہ کے ہمیں اس سے نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ ہم اس امر کے متعلق تو خود فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں جو ہماری ذات سے تعلق رکھتا ہو لیکن جو امر دوسروں کی ذات سے تعلق رکھتا ہو اس پر ہماری نیتوں کا کچھ اثر نہیں ہوسکتا۔مسلمانوں کو تین قسم کے مقدمات پیش آ سکتے ہیں۔ایک وہ مقدمات جو باہم مسلمانوں میں ہوں۔خواہ مالی حقوق کے متعلق ہوں یا فوجداری ہوں۔مگر قابل دست اندازی پولیس نہ ہوں۔ایسے مقدمات تو قطع نظر اس فیصلہ کے مسلمانوں میں آپس میں ہی طے ہونے چاہئیں۔اگر ہم اپنے جھگڑے خود فیصلہ کرنے کی قابلیت نہیں رکھتے تو ہم در حقیقت اس نظام اسلامی سے بے بہرہ ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں قائم فرمایا تھا۔ہماری جماعت بڑی سختی سے اس امر کا لحاظ رکھتی ہے کہ تمام مالی مقدمات اور تمام فوجداری اختلافات جن کو برطانوی عدالت میں لے جانے کے ہم قا نو نا پابند نہیں اپنی جماعت کے قاضی ہی طے کریں۔اس قسم کے ایک واقعہ کے متعلق پچھلے دنوں اخبارات میں ایک مضمون بطور اعتراض شائع ہوا تھا۔مگر میرے نزدیک یہ امر قابل اعتراض نہیں بلکہ قومی اتحاد کے لئے ضروری ہے اور قومی دولت اس سے محفوظ رہ جاتی ہے۔دوسری قسم کے مقدمات وہ ہو سکتے ہیں جو گو دو مسلمان فریق میں ہوں لیکن قابل دست اندازی پولیس ہوں اور قابل راضی نامہ ہوں۔اور تیسری قسم کے مقدمات وہ ہیں جو مسلمانوں اور غیر قوموں میں ہوں۔ان دونوں قسم کے مقدمات