سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 341
سيرة النبي علي 341 جلد 2 غیر معمولی واقعات موجود تھے۔دفعہ 153 - الف ہر صوبہ کی گورنمنٹ کے نزدیک ایک خاص مفہوم رکھتا تھا اور پبلک اس مفہوم سے متفق تھی۔غالباً مختلف صوبوں میں مختلف گورنمنٹیں اس دفعہ کے ماتحت اگر مقدمات چلا نہ چکی تھیں تو لوگوں کو اس امر کی دھمکی ضرور دے چکی تھیں اور لوگ بھی اس کا یہی مفہوم سمجھ کر معافیاں مانگ مانگ کر اپنی جان بچا رہے تھے۔اگر ایک ہی وقت میں قانون کی وضع کرنے والی جماعت اور جن کے لئے وہ قانون بنا تھا سب کے سب اس قانون کے ایک معنوں پر متفق تھے بلکہ جیسا کہ ایک بعد کے فیصلہ سے معلوم ہوا ہے ایک ہمسایہ صوبہ کی عدالت عالیہ بھی اس قانون کا وہی مفہوم لیتی تھی تو کیا اس صورت میں پبلک میں ہیجان پیدا ہونا ایک لازمی امر نہ تھا؟ کیا پبلک اس موقع پر یہ نتیجہ نہیں نکالے گی کہ غیر معمولی حالات میں ایک غیر معمولی فیصلہ ہوا ہے؟ اور کیا خود ہائی کورٹ کی عزت کے قیام کے لئے اس امر پر روشنی ڈالنا ہائی کورٹ کے لئے ضروری نہ تھا؟ اگر بغیر اس کے کہ کنور صاحب پر بددیانتی کا الزام لگایا جائے پبلک کے لئے یہ فیصلہ استعجاب و حیرت کا موجب تھا تو پھر مسلم آؤٹ لگ کا مطالبہ عدالت عالیہ کی ایک بہت بڑی خدمت تھی نہ کہ جرم جس کی پاداش میں اسے سزا دی جائے۔معاملہ کی حقیقی حیثیت اگر معاملہ کسی معمولی قانون کی تشریح کا ہوتا تو اور بات تھی مگر یہاں تو معاملہ یہ تھا کہ ایک قانون کے ایک معنے سالہا سال سے ثابت شدہ سمجھے گئے تھے ، گورنمنٹ کی نظر میں بھی اور پبلک کی نگاہ میں بھی اور کنور صاحب نے ان مسلّمہ معنوں کو غلط قرار دیا تھا۔پس ایسے وقت میں اگر مسلم آؤٹ لگ نے اپنی آواز اٹھائی خصوصاً اس حال میں کہ اس فیصلہ سے مسلمانوں کے دل مجروح ہو رہے تھے تو اگر فاضل ججان کے نزدیک وہ آواز بے موقع بھی تھی تو زیادہ سے زیادہ اسے نامناسب قرار دینا چاہئے تھا نہ یہ کہ وہ اس قدر سخت سزا دیتے۔پھر ہائی کورٹ کو دیکھنا چاہئے کہ کیا اس سزا سے ہائی کورٹ کی وہ عزت قائم ہوگئی جسے وہ