سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 340
سيرة النبي علي 340 جلد 2 کوئی شک ہے کہ ملک معظم کی وفادار رعایا کے کروڑوں افراد اس فیصلہ پر جس کا حوالہ مسلم آؤٹ لگ نے دیا حیران و انگشت بدنداں ہیں اور کیا عدالت عالیہ کا یہ فرض نہیں کہ جب ملک کی ایک بڑی تعداد ایک فیصلہ پر حیران ہو اور خود گورنمنٹ بھی جو اس قانون کی وضع کرنے والی ہے اس کے عجیب اور خلاف امید ہونے کا اظہار کرے تو اس کے متعلق ایسے حالات بہم پہنچائے کہ جس سے پبلک کی تسلی ہو اور اس کی گھبراہٹ دور ہو سکے۔اس میں کیا شک ہے کہ ملک کا امن عدالت عالیہ پر اعتبار سے قائم رہ سکتا ہے۔پس اس وجہ سے عدالت عالیہ کو معمولی شکوک کا بھی خیال رکھنا چاہئے اور انسانی فطرت کی کمزوریوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔عدالت عالیہ کو خواہ کسی فیصلہ کی صحت پر کس قدر ہی یقین ہو سزا نا درست ہے اور وہ ایک حج کی دیانت پر خواہ کس قدر ہی اعتماد رکھتی ہو اس سے پبلک کی تسلی تو نہیں ہو جاتی اور اس سے پبلک میں عدالت عالیہ کا وقار تو قائم نہیں ہو جاتا۔پس عدالت عالیہ کو ایسے مواقع پر خود ہی پبلک کے احساسات کا خیال رکھنا چاہئے اور اس خیال سے تسلی نہیں پالینی چاہئے کہ لوگوں کے خیالات غلط ہیں۔خیالات خواہ کس قدر ہی غلط ہوں مگر جب وہ پیدا ہو جا ئیں تو بے امنی پیدا کرنے کے بغیر نہیں رہ سکتے اور عدالت کا فرض ہے کہ نہ صرف لوگوں کے خیالات کی درستی کی غرض سے بلکہ خود اپنی عزت کو صدمہ سے بچانے کے لئے وہ کوئی ایسی تدبیر اختیار کرے جس سے لوگوں کے شبہات کے دور ہونے کا موقع نکل آئے۔مسلم آؤٹ لگ نے صرف اس قسم کی تدبیر اختیار کرنے کی طرف توجہ دلائی تھی اور اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا تھا۔پس فاضل ججان کا اس کے ایڈیٹر اور مالک کو سزا دینا اور سخت سزا دینا میری رائے میں درست نہ تھا۔آؤٹ لگ کا مطالبہ ہائی کورٹ کی خدمت تھی اس میں کوئی بہن ہیں کہ اس مقدمہ کے متعلق