سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 327 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 327

سيرة النبي علي 327 جلد 2 بھی ممکن حد تک مسلمانوں کی دکانیں کھلوانے کے لئے کوشش کرے اور ان کی امداد کا خیال رکھے۔بائیکاٹ کو میں ذاتی طور پر نا پسند کرتا ہوں لیکن یہ بائیکاٹ نہیں بلکہ ترجیح ہے اور ترجیح پر کوئی شخص اعتراض نہیں کر سکتا۔میں امید کرتا ہوں کہ اس وقت ہر اک وہ شخص جو اسلام سے محبت کا دعویٰ رکھتا ہے اب غفلت کی نیند کو ترک کر کے عمل کے میدان میں آجائے گا اور ہندوؤں کی تمدنی غلامی سے آزاد ہونے اور دوسروں کو آزاد کرانے کی پوری کوشش کرے گا۔تا کہ ان لوگوں کو یہ معلوم ہو کہ رسول کریم ﷺ کی کچی غیرت مسلمانوں میں پائی جاتی ہے اور وہ آپ کی عزت کے قیام کے لئے مستقل قربانی کرنے کے لئے تیار ہیں۔اگر مسلمان اس کام پر آمادہ ہو جائیں گے تو یقیناً وہ ہندو جو دل سے برے نہیں ہیں لیکن بعض شوریدہ سر لوگوں کے شور سے ڈرے ہوئے ہیں اس خطرہ کو محسوس کریں گے جو تمدنی طور پر ان کے سامنے پیش ہے اور وہ خود ہی ان لوگوں کو باز رکھیں گے اور حکومت کو بھی یہ احساس ہوگا کہ مسلمان بھی سنجیدگی سے کسی کام کے کرنے پر آمادہ ہو سکتے ہیں اور محض وقتی جوش کا شکار نہیں ہوتے اور اس کے افسروں کے دلوں میں بھی مسلمانوں کا احترام پیدا ہوگا اور وہ خیال کریں گے کہ یہ ایک عظمند قوم ہے اور اپنے جوشوں کو دبا کر اور امن کے قیام کو اپنا اولین مقصد قرار دے کر اپنے مذہبی فوائد کی نگہداشت کرتی ہے۔اے بھائیو! میں دردمند دل سے پھر آپ کو کہتا ہوں کہ بہادر وہ نہیں جو لڑ پڑتا ہے۔جولڑ پڑتا ہے وہ بزدل ہے کیونکہ وہ اپنے نفس سے دب گیا ہے۔بہادر وہ ہے جو ایک مستقل ارادہ کر لیتا ہے اور جب تک اس کو پورا نہ کر لے اس سے پیچھے نہیں ہوتا۔پس اسلام کی ترقی کے لئے اپنے دل میں تینوں باتوں کا عہد کرلو۔اول یہ کہ آپ خشیت اللہ سے کام لیں گے اور دین کو بے پرواہی کی نگاہ سے نہیں دیکھیں گے۔دوسرے یہ کہ آپ تبلیغ اسلام سے پوری دلچسپی لیں گے اور اس کام کے لئے اپنی جان اور اپنے مال کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔اور تیسرے یہ کہ