سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 319 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 319

سيرة النبي الله 319 جلد 2 رسول کریم ﷺ کی محبت کا دعویٰ کرنے والے کیا اب بھی بیدار نہ ہوں گے؟ ایک ہندو دیوی شرن شرما نے رسالہ ” ورتمان امرتسر میں رسول کریم ہے کے بارہ میں ایک لغو اور ہتک آمیز مضمون لکھا۔حضرت مصلح موعود نے اس کا جواب دیتے ہوئے 29 مئی 1927 ء کو ایک مضمون لکھا جو درج ذیل ہے :۔و مسیحی اور آریہ جس طرح سالہا سال سے بانی اسلام عَلَيْهِ السَّلَامُ فَدَتُهُ نَفْسِي وَ اَهْلِی کے خلاف زہرا گلتے چلے آ رہے ہیں اسے وہ لوگ خوب اچھی طرح جانتے ہیں جو ان کی کتب کے پڑھنے کے عادی ہیں۔وہ کتب اس قدر گندے الفاظ سے پُر ہیں کہ ایک مسلمان کے لئے ان کا پڑھنا ناممکن ہو جاتا ہے لیکن چونکہ مسلمان ان کتب سے عام طور پر واقف نہیں ہوتے انہیں یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان کتب کے مصنفین ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کس قسم کے خیالات کی اشاعت کر رہے ہیں اور اس وجہ سے ان میں وہ بیداری بھی نہیں پیدا ہوتی جو قومی زندگی کے لئے ضروری ہے۔وہ اپنی ذمہ داری سے غافل رہتے ہیں اور اسلام کی خدمت اور رسول کریم ﷺ کی عزت کی حفاظت کا خیال ایک دبی ہوئی چنگاری کی طرح ان کے سینوں میں مخفی رہتا ہے۔اسی نقص کو دیکھ کر بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام نے اپنی کتب میں ان گالیوں کو نقل کر کے جو مسیحی اور آریہ مصنفین کی کتب میں ہمارے مقدس رسول کو دی گئی ہیں مسلمانوں کو بیدار کرنا چاہا تھا لیکن افسوس کہ بعض انسانی فطرت کے