سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 318
سيرة النبي علي 318 جلد 2 میں رسول کریم ﷺ کے پاس کھڑا ہو کر لڑتا تھا کیونکہ حملہ کا سارا زور اس جگہ ہوتا تھا۔میں پوچھتا ہوں جب خدا تعالیٰ نے آپ کے متعلق يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ فرمایا ہے تو پھر حفاظت کی کیا ضرورت تھی ؟ چاہئے تھا صحابہ آپ کو آگے کر دیتے اور خود پیچھے بھاگ جایا کرتے۔مگر ایسا نہیں کیا جاتا تھا بلکہ حفاظت کی پوری پوری کوشش کی الله جاتی تھی۔پس یہ کہنا کہ مکہ کی حفاظت کی ہمیں ضرورت نہیں سخت نادانی کی بات ہے۔مکہ اور مدینہ خواہ کتنی ہی محترم جگہ ہوں محمد عے سے بڑھ کر نہیں ہو سکتیں۔مدینہ کی برکت کیوں ہے؟ محمد ﷺ کی برکت کی وجہ سے۔اسی طرح مکہ کی برکت کیوں ہے؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وجہ سے۔پس جن کی وجہ سے ان مقامات کو برکت حاصل ہوئی وہ زیادہ مبارک ہیں یا یہ جگہیں ؟ مکہ حقیقتا کیا ہے؟ اینٹ پتھروں کی عمارتوں کا مجموعہ ہے۔مگر محمد یہ تو خدا تعالیٰ کا زندہ نور تھے ، ان کے مٹنے سے ایمان اور نور مٹتا تھا۔مگر مکہ کے مٹنے سے کیا مٹ جاتا۔پس اگر کسی کی حفاظت کی ضرورت تھی تو وہ رسول کریم ﷺ کا وجود تھا۔بے شک مکہ اور مدینہ کی حفاظت کا وعدہ خدا تعالیٰ نے کیا ہے مگر رسول کریم علیہ کی حفاظت کے وعدہ سے زیادہ نہیں۔اور اگر محمد میے کی حفاظت کے لئے ظاہری تدبیریں ضروری تھیں تو مکہ کی حفاظت کے لئے کیوں نہیں۔“ ( الفضل 20 مئی 1927 ء) صلى الله 1: المائدة: 68 2 سیرت ابن ہشام جلد 1 صفحہ 675 مطبوعہ دمشق 2005 ، الطبعة الاولى 3: بخاری کتاب المغازی باب قول الله اذ تستغيثون ربكم صفحہ 668 حدیث نمبر 3952 مطبوعہ ریاض 1999ءالطبعة الثانية