سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 313
سيرة النبي ع 313 جلد 2 الله میں اس موقع پر خصوصیت سے اپنی جماعت کے لوگوں سے کہتا ہوں کہ وہ کھڑے ہو جائیں۔ایک مکمل غدا اور ایک کامل عبادت ان کو دی گئی ہے جس کے نتائج یقینی ہیں۔ان سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔کیونکہ ان سے اگر فائدہ اٹھایا جائے گا تو آنحضرت ملے کی مذمت کرنے والوں کی تعداد کم ہو جائے گی اور مدح کرنے والوں کی تعداد بڑھ جائے گی۔یہی وہ طریق ہے جس سے تم رسول کریم ﷺ کو مقام محمود پر کھڑا کر سکتے ہو۔اور یہ تمہارے اختیار میں ہے چاہو تو آپ کو اس منبر پر کھڑا کر دو جس پر آپ کی تعریف ہو اور چاہو تو اس جگہ پر آپ کو لے آؤ جہاں آپ کی مذمت ہو۔لیکن اس صورت میں تمہارا یہ دعا مانگنا کہ اے خدا! آنحضرت ﷺ کو مقام محمود پر کھڑا کر تمسخر ہوگا ، ہتک ہو گی اور بے عزتی ہوگی۔میں اپنی جماعت کے سوا باقی مسلمانوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ اگر وہ پہلے نہیں سمجھے تو آج میرے ذریعے اس دعا کو سمجھ لیں اور اس شخص کے ذریعے اس دعا کو سمجھ لیں جسے خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس کا مطلب سمجھایا اور جس کے دل میں اسلام کا درد ہے۔اس میں ان کی کوئی ہتک نہیں۔اگر وہ میرے ذریعہ اس دعا کو سمجھ لیں گے تو پھر بھی وہ معزز کے معزز ہی رہیں گے۔لیکن دشمنوں کی یہ بدسلو کی دیکھ کر بھی وہ اگر اب اس طرف توجہ نہ کریں تو دو ہرے مجرم ہوں گے۔ایک پہلے کام نہ کرنے کے اور دوسرے اس وقت غفلت کرنے کے اور اس دعا کو نہ سمجھنے کے۔پس میں پھر ان سے کہتا ہوں کہ اگر اسلام کا دردان کے اندر ہے تو وہ اس دعا کے مطلب کو مجھ سے سمجھ لیں اور پھر اس پر عمل کریں۔میں خدا تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں اس بات کی توفیق دے کہ ہم اس کے دین کے لئے کوشش کرنے والے ہوں ، تقویٰ حاصل کرنے والے ہوں اور ان برکتوں کو جو اسلام لایا دنیا میں پھیلا دیں اور آنحضرت ﷺ کی لائی ہوئی تعلیم کو دنیا کے کونہ کونہ میں پہنچا دیں۔( کیونکہ اس طرح آپ کی خدمت کرنے والے کم ہو صلى الله