سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 299
سيرة النبي الله 299 جلد 2 رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدا خوفی حضرت مصلح موعود 18 فروری 1927 ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔آنحضرت ﷺ کے متعلق لکھا ہے کہ جس وقت تیز ہوا چلتی یا بادل اٹھتا یا بارش ہوتی یا آندھی آتی یا طوفان آتا تو آپ گھبرا جاتے اور بسا اوقات اس گھبراہٹ سے کئی کئی بار آپ گھر کے اندر باہر آتے جاتے اور فرماتے معلوم نہیں خدا تعالیٰ کی اس ہوا یا اس بارش یا اس آندھی سے کیا منشا ہے 1۔آپ کی اس گھبراہٹ کو دیکھ کر بعض لوگ یہ سمجھتے کہ یہ کوئی بڑا ہی گھر، دلا اور کمزور انسان ہے کہ ان روز مرہ کی باتوں سے بھی گھبرا جاتا ہے۔مگر آپ فرماتے پہلی قوموں پر عذاب آئے ہیں۔اب معلوم نہیں کہ یہ طوفان یا یہ بارش یا یہ ہوا عذاب کے رنگ میں ہے یا رحمت کے رنگ میں۔تو مومن ہر تغیر میں خدا تعالیٰ کی قدرت کا نشان دیکھتا ہے اور شقی کی ان کی طرف آنکھ ہی نہیں اٹھتی۔“ ( الفضل یکم مارچ 1927ء) 1: بخارى كتاب التفسير۔تفسير سورة الاحقاف صفحہ 853 حدیث نمبر 4829 مطبوعہ ریاض 1999 الطبعة الثانية