سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 296
سيرة النبي الله 296 جلد 2 رسول کریم اللہ کے حسن سلوک کا نتیجہ حضرت مصلح موعود 19 نومبر 1926 ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں :۔پس جو کام محبت اور اخلاص سے ہو سکتا ہے وہ اور کسی ذریعہ سے نہیں ہوسکتا۔محبت کے ہاتھ کا دنیا کی کوئی چیز مقابلہ نہیں کر سکتی۔تلوار میں وہ کام نہیں کرتیں جو محبت کام کرتی ہے۔حضرت نبی کریم ﷺ کے ہی ایک زمانہ کو دیکھ لوجس میں دس سال تک مسلمانوں نے تلواریں اٹھا ئیں۔لیکن اُس زمانہ میں اسلام اس طرح نہیں پھیلا جس طرح کہ اُس وقت پھیلا جب کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو وہ موقع دیا کہ جس میں مسلمان محبت کا اظہار کر سکتے تھے۔جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو غلبہ اور طاقت دی تو اُس وقت مسلمانوں نے محبت کا اظہار کیا۔جب آنحضرت ﷺ نے مکہ کو فتح کیا تو آپ نے کفار مکہ سے پوچھا کہ 23 سالہ مظالم جو تم نے مسلمانوں پر کئے ، آج بتاؤ! تم سے کیا سلوک کیا جائے ؟ انہوں نے وہی جواب دیا جو ایسے وقت میں مجبوری کے ماتحت مفتوح و مجرم قو میں دیا کرتی ہیں کہ آپ ہمیں معاف کر دیں۔یہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ ایک طبعی بات تھی اور وہ ایک شکست خوردہ کی آواز تھی۔لیکن محمد رسول اللہ ﷺ نے اس جواب کے خلاف کہا جو عام طور پر فاتح شخص دیا کرتا ہے۔عام طور پر تو یہی جواب دیا جاتا ہے کہ ابھی تم نے کیا دیکھا ہے لیکن حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو کچھ تم نے کہا ہے ٹھیک ہے۔لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ 1 جاؤ! آج تم پر کوئی ملامت نہیں۔بس پھر کیا تھا اس ایک فقرہ نے چند منٹ کے اندر وہ کام کیا جو دس سال کی جنگیں نہ کر سکیں۔وہ لوگ جو