سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 17 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 17

سيرة النبي عالم 17 جلد 2 صل الله چنانچہ ان لفظوں کا نتیجہ دیکھ لو کہ تیرہ سو برس میں انصار کی کوئی بھی حکومت نہیں ہوئی۔حالانکہ انصار وہ لوگ ہیں جن پر حضرت نبی کریم ﷺ کو بڑا اعتبار تھا۔غزوہ حنین میں بعض نوجوانوں نے بڑا بول بولا اور ان میں عجب آ گیا۔خدا تعالیٰ نے اس موقع پر ان کو تنبیہ کرنی چاہی اور میدان میں ان کا قدم اکھڑ گیا حالانکہ مسلمانوں کی تعداد اُس وقت بارہ ہزار سے زیادہ تھی اور دشمن کی تعداد دو تین ہزار سے زیادہ نہ تھی۔اُس وقت ایسی حالت ہوئی کہ صحابہ کہتے ہیں کہ ہمیں معلوم نہ تھا کہ ہمارے گھوڑے کدھر جارہے ہیں۔میدان میں اُس وقت صرف رسول کریم اللہ اور سات آٹھ اور شخص باقی رہ گئے تھے۔اُس وقت حضرت عباس آگے بڑھے اور آنحضرت عیہ کے گھوڑے کی باگ کو پکڑ لیا اور کہا کہ حضور ! اب پلٹ چلیں اب مقابلہ کا وقت نہیں۔حضور ﷺ نے فرمایا کہ خدا کے نبی میدان میں آکر پیچھے نہیں ہٹا کرتے۔چونکہ حضرت عباس کی آواز بلند تھی اس لئے رسول اللہ ﷺ نے انہی کو کہا کہ انصار کو آواز دو کہ اے انصار ! تمہیں خدا کا رسول بلاتا ہے۔اس وقت جبکہ سب فوج تتر بتر ہو گئی تھی آپ مہاجرین کو آواز نہیں دیتے بلکہ آپ انصار کو پکارتے ہیں۔حضرت عباس نے آواز دی۔صحابہؓ کہتے ہیں کہ ہمیں ایسا معلوم ہوا کہ گویا صور اسرافیل پھونکا جا رہا ہے اور یہ عباس کی آواز نہیں بلکہ خدا کی آواز ہے۔تمام لوگ پلیٹ پڑے اور گھوڑوں اور اونٹوں کو پیچھے پھیرنا شروع کر دیا لیکن حالت اُس وقت یہ تھی کہ اونٹ مہار کے کھینچنے سے دوہرے ہو ہو جاتے لیکن واپس نہ پلٹتے۔آواز دم بدم بلند ہوتی گئی اس پر جو اونٹ اور گھوڑے پھرتے نہ تھے ان کے سواروں نے تلواریں کھینچ کر ان کی گردنیں اڑا دیں اور پیدل ہو کر حضور کی طرف آگئے 2۔الله پس اس واقعہ پر ابھی چند دن نہ گزرے تھے کہ وہ واقعہ پیش آیا جس کا ذکر ہوا اور ان چند لفظوں نے کیا نتیجہ پیدا کیا؟ چونکہ انصار مومن تھے اس لئے دنیاوی نتیجہ سے محروم رہے اور خدا نے ان کا ایمان بچا لیا مگر دیکھو انہوں نے کن دقتوں سے یہ رتبہ