سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 290
سيرة النبي الله 290 جلد 2 رسول کریم ﷺ کا پر حکمت فیصلہ حضرت مصلح موعود 15 جنوری 1926ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔”ہم دیکھتے ہیں رسول کریم علے سفر کر رہے ہیں، لوگوں کے پاس کھانا کم ہو جاتا ہے، سفرا بھی لمبا ہے اور کوئی ایسا ذریعہ نہیں کہ مزید کھانا مہیا کرسکیں یا کہیں سے خرید سکیں۔بعض کے پاس کچھ کھانا رہ گیا ہے اور بعض کا بالکل ختم ہو گیا ہے۔اُس وقت رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس جس کے پاس کچھ ہے لا کر رکھ دو۔اب وہ کسی کا نہیں ساری جماعت کا ہے۔اُس وقت جس کے پاس جو کچھ تھا اس نے لا کر آپ کے سامنے رکھ دیا 1 اور ایک نے بھی نہ کہا کہ اگر دوسرے مرتے ہیں تو مرنے دو ہماری الفضل 26 جنوری 1926ء ) 66 جانیں تو ہمارے کھانے سے بچنے دو۔“ 1 بخاری كتاب الشركة باب الشركة فى الطعام والنهد صفحہ 402 حدیث نمبر 2484 مطبوعہ ریاض 1999 الطبعة الثانية