سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 287 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 287

سيرة النبي علي 287 جلد 2 اور ہتک آمیز روایتوں سے آنحضرت علی کو کچھ کا کچھ بنا دیا تھا۔نہ صرف یہ بلکہ مختلف قسم کی باتوں سے آپ کی اصل شان کو ہی گھٹا دیا تھا اور بعض ایسی غلط اور بے ہودہ باتیں آپ کی طرف منسوب کر رکھی تھیں جو ہرگز آپ کے شایان شان نہ تھیں۔غرض لوگوں کی غلط روایتوں نے آپ کو پس پردہ چھپا دیا تھا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آکر ان سب پردوں کو اٹھا دیا اور اس مبارک اور خوبصورت چہرہ پر سے تمام پردے اٹھا کر ہمیں دکھا دیا۔پس یہ کیا کم احسان ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کہ آپ نے آکر آنحضرت ﷺ کی اصل شان کو ظاہر فرما دیا اور ان سب باتوں سے آپ کو پاک کر دیا جو آپ کی طرف منسوب کی جاتی تھیں۔پس درود میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو بھی شامل کرنا چاہئے۔اور بھی احسان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہیں اور بے شمار احسان ہیں۔پس ہمارا یہ بھی فرض ہونا چاہئے کہ ہم ان کو بھی درود میں شامل کریں۔ہم مختلف اوقات میں آنحضرت علے پر درود پڑھیں اور اس درود میں آپ کے خلیفہ مسیح اور مہدی کو بھی شامل کریں اور ان پر بھی درود پڑھیں تا ان کے احسانوں کا بھی اقرار ہوا اور شکر یہ ادا ہو سکے۔پھر یہی نہیں کہ درود میں صرف احسان کا اقرار یا شکر یہ ہی ہے بلکہ اس میں ہمارا بھی فائدہ ہے اور اس فائدہ کو اگر الگ بھی کر دیا جائے جو اقرار احسان سے حاصل ہوتا ہے تو بھی درود ہمارے فائدہ کی چیز ہے۔کیا ہم درود میں یہ نہیں کہتے اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ َو عَلَى الِ مُحَمَّدٍ ؟ پھر کیا ہم خود آل میں شامل نہیں ؟ یقیناً ہم بھی آل میں شامل ہیں اور اس صورت میں درود نہ صرف آنحضرت ﷺ کے احسانوں کا اقرار ہے بلکہ اپنے لئے بھی ایک دعا ہے۔صلى الله پھر ہم درود میں اور دعاؤں میں رسول کریم ہے کے لئے یہ دعا تو نہیں کرتے وساد کہ الہی ! تو ان کو جائیداد دے، باغ دے، زمین دے، مکان دے، دولت دے۔یہ