سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 283
سيرة النبي علي 283 جلد 2 اس کی روحانیت میں کچھ اضافہ نہیں ہوتا ؟ اور کیا جہاں وہ پہاڑ سامنے ہوں کہ جن پر خدا جلوہ آرا ہوا ، جہاں وہ ٹیلے نظر میں ہوں کہ جن پر خدا کا جلال ظاہر ہوا، جہاں وہ ریتلا میدان دھیان میں ہو جس پر خدا کے کئی نشان ظاہر ہوئے ، جہاں وہ مقامات نگاہ کے نیچے ہوں کہ جن پر خدا نے آنحضرت ﷺ کی مدد و نصرت کی وہاں عبادت کرنے سے جو لطف آ سکتا ہے وہ اور جگہ آ سکتا ہے؟ پھر کیا ان چیزوں کا احترام ضروری ہے یا نہیں؟ کیا ان کی حفاظت اور ان کے قیام کے لئے کوشش کرنا مناسب ہے یا غیر مناسب؟ وہابیوں نے بیشک شرک کو مٹا یا مگر ہم یہ کہنے سے بھی باز نہیں رہ سکتے کہ اس شرک کو مٹاتے مٹاتے انہوں نے شعائر اللہ کی بے حرمتی بھی کی اور پھر حضرت عیسی کے ایک بت کو بھی قائم رکھا جسے آخر ہم نے تو ڑا۔پس وہابیوں سے بڑھ کر ہم شرک کے دشمن ہیں۔ہم نے نہ صرف حضرت عیسی کے بت کو جسے وہابیوں نے بھی چھوڑ دیا تھا تو ڑا بلکہ اس کے سوا اور بھی بت توڑے اور اور بھی کئی قسموں کے شرکوں کو مٹایا ہے مگر ان بتوں کو توڑتے اور ان شرکوں کو مٹاتے ہوئے ہم نے شعائر اللہ کی بے حرمتی نہیں کی اور کسی رنگ میں جبر نہیں کیا اور نہ ہی جبر کرنا ہم جائز سمجھتے ہیں۔پھر ہم نے ان کی طرح یہ بھی نہیں کیا کہ شعائر اللہ کے اندر جو عظمت ہے اس کا انکار کر دیں اور یہ کہہ دیں کہ یہ شرک ہے۔کیونکہ شعائر اللہ کو ہی اگر شرک کہیں تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ خدا نے خود ( نعوذ باللہ ) شرک کو پھیلایا اور ایسا شاید وہابی بھی نہ کہیں۔گو عملاً ان کے فعل کا یہی نتیجہ نکلتا ہے۔پس ہم تو وہابیوں سے بڑھ کر شرک کے دشمن ہیں۔پس شعائر اللہ اگر شرک ہیں تو مکہ معظمہ اور مسجد نبوی بھی پھر شرک ہے۔ان کی طرح ان کو بھی گرادینا چاہئے۔مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ان مقامات میں عبادت کرنے کا زیادہ ثواب آیا ہے۔بہ نسبت دوسری مسجدوں کے مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کا زیادہ ثواب