سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 13 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 13

سيرة النبي علي 13 جلد 2 توڑے جاتے تھے۔جب مکہ میں آپ کے ساتھیوں پر ظلموں کی حد ہوگئی تو آپ نے اپنے ساتھیوں میں سے ایک قافلہ کو حبشہ بھیج دیا۔کفار عرب کا وفد بھی حبشہ میں پہنچا اور کوشش کی کہ کسی طرح ان مسلمانوں کو یہاں بھی امان نہ ملے۔اس کے لئے انہوں نے یہ چال چلی کہ امرا کو بڑے بڑے تھے دیئے کہ کسی طرح بادشاہ تک ان کی رسائی ہو۔چنا نچہ انہوں نے بادشاہ کے دربار میں بار پایا اور کہا کہ ان لوگوں کو نکال دو۔اس نے کہا کہ میں نہیں نکالتا۔خدا نے اسے سمجھ دی تھی۔امرا بھی کفار عرب کے ہم نوا تھے۔اس نے ان کو بھی صاف جواب دیا۔خدا نے اس کے دل میں رحم ڈال دیا تھا۔یہ بادشاہ جب بچہ تھا تو اس کا چچا اس کے تخت پر قابض ہو گیا تھا اور اس کے امرا اس کے چچا کے طرف دار تھے۔آخر اس نے اپنے چچا کا فیصلہ کیا اور اپنا حق حاصل کیا۔جب امرا نے مسلمانوں کے خلاف کوشش کی تو اس نے کہہ دیا کہ میں تمہاری پر واہ نہیں کرتا۔تم وہی ہو جنہوں نے میرا حق غصب کر کے میرے چچا کی طرفداری کی تھی۔اس طریق میں نا کامی دیکھ کر انہوں نے بادشاہ کے حضور کہا کہ یہ لوگ مفسد ہیں اور اپنے دین سے پھر گئے ہیں اور حضرت مسیح کی توہین کرنے والے ہیں۔بادشاہ نے مسلمانوں سے پوچھا۔انہوں نے صاف کہا کہ فساد ہمارا کام نہیں ہم نہایت امن پسند ہیں حقیقت یہ ہے کہ انہی لوگوں نے ہمیں ہمارے وطن سے نکالا ہے اور وہاں ہم پر طرح طرح کے ظلم کئے ہیں۔آخران ظلموں کی تاب نہ لا کر ہم نے اپنے عزیز وطن کو چھوڑ دیا اور تیرے ملک میں آئے ہیں۔باقی رہا دین سے بے دین ہونا یہ بھی صحیح نہیں۔ہمارا دین بت پرستی تھا۔ہم لوٹ مار کے عادی اور سخت اخلاقی گناہوں میں مبتلا تھے۔ہم میں ایک نبی برپا ہوا اور اس نے ہماری ان تمام وحشیانہ عادات کو انسانیت کے ساتھ بدل دیا۔حضرت مسیح کی ہم عزت کرتے اور انہیں خدا کا ممسوح اور نبی اور رسول اور برگزیدہ یقین کرتے ہیں۔مگر ہمارے نزدیک وہ خدا نہ تھے۔یہ باتیں سن کر بادشاہ متاثر ہوا اور کفار کے وفد کو لوٹا دیا اور مسلمانوں کو امن و امان کے ساتھ وہاں رہنے کی اجازت دی۔