سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 254 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 254

سيرة النبي الله 254 جلد 2 رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سے بھی برتری ثابت ہوئی کیونکہ گو بڑی بڑی تیاریوں کے بعد مکہ والوں نے مدینہ پر حملہ کیا اور مسلمان ہر دفعہ تعداد میں ان سے کم تھے ، عموماً ایک مسلمان تین اہل مکہ کے مقابلہ پر ہوتا تھا مگر پھر بھی غیر معمولی طور پر خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح دی اور اہل مکہ کو شکست ہوئی۔بعض دفعہ بے شک مسلمانوں کو عارضی تکلیف بھی پہنچی مگر حقیقی معنوں میں کبھی شکست نہیں ہوئی۔اور ان لشکر کشیوں کے دو نتیجے نکلے۔ایک تو یہ کہ بجائے اس کے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تباہ ہوتے آپ سارے عرب کے بادشاہ ہو گئے اور دوسرے یہ کہ ان لڑائیوں میں آپ کو کئی ایسے اخلاق دکھانے کا موقع ملا جو بغیر جنگوں کے مخفی رہتے اور اس سے آپ کی اخلاقی برتری ثابت ہو گئی۔اسی طرح یہ بھی ظاہر ہو گیا کہ آپ نے کیسی وفاداری اور قربانی کی روح ایک مُردہ قوم میں پھونک دی تھی۔جنگ احد کا دردناک واقعہ چنانچہ مثال کے طور پر میں احد کی جنگ کا واقعہ بیان کرتا ہوں۔مدینہ آنے کے تین سال بعد کفار نے تین ہزار کا لشکر تیار کر کے مدینہ پر حملہ کیا۔مدینہ مکہ سے 200 میل کے فاصلہ پر ہے۔دشمن اپنی طاقت پر ایسا نازاں تھا کہ مدینہ تک حملہ کرتا ہوا چلا آیا اور مدینہ سے 8 میل پر احد کے مقام پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کو روکنے کے لئے گئے۔آپ کے ساتھ ایک ہزار سپاہی تھے۔آپ نے جو احکام دیئے اس کے سمجھنے میں ایک دستہ فوج سے غلطی ہوئی۔نتیجہ یہ ہوا کہ باوجود اس کے کہ مسلمانوں کو پہلے فتح ہو چکی تھی دشمن پھر لوٹ پڑا اور ایک وقت ایسا آیا کہ دشمن نے زور کر کے مسلمانوں کو اس قدر پیچھے دھکیل دیا کہ صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دشمنوں کے نرغے میں رہ گئے۔آپ نے جرات اور دلیری کا یہ نمونہ دکھایا کہ باوجود اس کے کہ اپنی فوج پیچھے ہٹ گئی تھی مگر آپ پیچھے نہ ہٹے اور دشمن کے مقابلہ پر کھڑے رہے۔جب مسلمانوں کو معلوم ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ سے نہیں ہے اور