سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 250

سيرة النبي عالم 250 جلد 2 مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے جہاں کے لوگوں پر اسلام کی تعلیم کا ایسا اثر ہوا کہ تھوڑے ہی عرصہ میں قریباً سب مدینہ کے لوگ اسلام لے آئے اور آپ کو انہوں نے اپنا بادشاہ بنا لیا اور اس طرح وہ کونے کا پتھر جسے اس شہر کے معماروں نے رڈ کر دیا تھا مدینہ کی حکومت کا تاج بنا۔اس ترقی کے زمانہ میں زمانہ ترقی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ بھی آپ نے اپنا شغل تعلیم اور وعظ ہی رکھا اور اپنی سادہ زندگی کو کبھی نہیں چھوڑا۔آپ کا شغل یہ تھا کہ آپ لوگوں کو خدائے واحد کی پرستش کی تعلیم دیتے۔اخلاق فاضلہ اور معاملات کے متعلق اسلامی احکام لوگوں کو سکھلاتے۔پانچ وقت نماز خود آ کر مسجد میں پڑھاتے (مسلمانوں میں بجائے ہفتہ میں ایک مرتبہ عبادت کرنے کے پانچ دفعہ روز مسجد میں جمع ہو کر عبادت کی جاتی ہے ) جن لوگوں میں جھگڑے ہوتے آپ فیصلہ کرتے۔ضروریات قومی کی طرف توجہ کرتے جیسے تجارت، تعلیم ، حفظان صحت وغیرہ۔اور پھر غرباء کے حالات معلوم کرتے اور ان کی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کرتے۔حتی کہ جن لوگوں کے گھروں میں کوئی سود الا دینے والا نہ ہوتا ان کے لئے سودالا دیتے۔پھر باوجود ان سب کاموں کے کبھی بچوں کے اندر قومی روح پیدا کرنے کے لئے ان میں جا کر شامل ہو جاتے اور ان کو ان کی کھیلوں میں جوش دلاتے۔جب گھر میں داخل ہوتے تو اپنی بیویوں سے مل کر گھر کا کام کرنے لگتے اور جب رات ہوتی اور سب لوگ آرام سے سو جاتے تو آپ آدھی رات کے بعد اٹھ کر رات کی تاریکی میں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول ہو جاتے یہاں تک کہ بعض مرتبہ کھڑے کھڑے آپ کے پاؤں سوج جاتے 19۔حضرت رسول اکرم ﷺ کی تعلیم کا خلاصہ جو مذہبی تعلیم آپ دیتے صلى الله۔تھے اس کا خلاصہ یہ تھا:۔(1) آپ اس تعلیم کو دنیا کے سامنے پیش کرتے تھے کہ خدا تعالیٰ ایک ہے باقی