سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 249 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 249

سيرة النبي ع 249 جلد 2 پاؤں تک آپ خون سے تر بہ تر تھے۔مگر اُس وقت اُن ظالموں کی نسبت جو خیالات آپ کے دل میں موجزن تھے وہ اِن الفاظ سے ظاہر ہیں جو اس سنگساری کے وقت آپ کی زبان پر جاری تھے۔آپ خون اپنے جسم سے پونچھتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے کہ اے خدا ! ان لوگوں کو معلوم نہیں ہے کہ میں جو کچھ ان لوگوں کو کہتا ہوں سچ اور درست ہے اور یہ جو کچھ کر رہے ہیں اچھا سمجھ کر کر رہے ہیں اس لئے تو ان پر ناراض نہ ہو اور ان پر عذاب نازل نہ کر بلکہ ان کو سچائی کے قبول کرنے کی توفیق دے 18۔تکلیف کے وقت میں کیسے محبت سے بھرے ہوئے الفاظ کہے گئے ہیں کیا ان سے بڑھ کر ہمدردی کی مثال کہیں مل سکتی ہے؟ حج کے موقع پر اہل مدینہ کا تعلیم حاصل کرنا کا چھپا نہیں رہتا۔آپ کی تعلیم کی خبریں باہر مشہور ہوئیں اور میٹرب نامی ایک شہر کے لوگ ( جسے اب مدینہ کہتے ہیں ) حج کے لئے مکہ آئے تو آپ سے بھی ملے۔آپ نے ان کو اسلام کی تعلیم دی اور ان کے دلوں پر الیسا گہرا اثر ہوا کہ انہوں نے واپس جا کر اپنے شہر کے لوگوں سے ذکر کیا اور 70 آدمی دوسرے سال تحقیق کے لئے آئے جو سب اسلام لے آئے اور انہوں نے درخواست کی کہ آپ ان کے شہر میں چلے جائیں مگر آپ نے اُس وقت ان کی بات پر عمل کرنا مناسب نہ سمجھا۔ہاں وعدہ کیا کہ جب ہجرت کا موقع ہوگا آپ مدینہ تشریف لائیں گے۔مدینہ کی طرف ہجرت جب اہل مکہ کو معلوم ہوا کہ اب باہر بھی آپ کی تعلیم پھیلنی شروع ہوئی ہے تو انہوں نے ہر قبیلہ میں سے ایک ایک آدمی چنا تا کہ سب مل کر آپ کو قتل کر دیں۔اور یہ اس لئے کیا کہ اگر آپ کی قوم اس کو نا پسند کرے تو وہ سب قوموں کے اجتماع سے ڈر کر بدلہ نہ لے سکیں۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے پہلے سے بتا دیا تھا۔آپ اُسی رات مکہ سے نکل کر ابو بکر کو ساتھ لے کر