سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 248

سيرة النبي عل الله 248 جلد 2 مکہ ایک اکیلا شہر ہے اس کے ارد گرد 40 میل تک اور کوئی شہر نہیں۔پس یہ فیصلہ سخت تکلیف دہ تھا۔مکہ والوں نے پہرے لگا دیے کہ کوئی شخص ان کے ہاتھ کوئی کھانے کی چیز فروخت نہ کرے۔اور برابر تین سال تک اس سخت قید میں آپ کو رہنا پڑا۔راتوں کے اندھیروں میں پوشیدہ طور پر جس قدر غلہ وہ داخل کر سکتے تھے کر لیتے مگر پھر بھی اس قدر نگرانی میں وہ لوگ کہاں تک انتظام کر سکتے تھے۔بہت دفعہ کئی کئی دن جھاڑیوں کے پتے اور شاخوں کے چھلکے کھا کر ان کو گزارہ کرنا پڑتا تھا۔ایک صحابی کہتے ہیں کہ اُن تکلیف کے دنوں میں سب کی صحبتیں خراب ہو گئیں اور بہت دست لگ گئے۔ہفتہ نہیں، دو ہفتہ نہیں، تین سال متواتر وہ بہی خواہ بنی نوع انسان اپنے ماننے والوں کے ساتھ صرف اس لئے دکھ دیا گیا کہ وہ کیوں خدائے واحد کی پرستش اور اعلیٰ اخلاق کی تعلیم دیتا ہے مگر اس نے ان تکالیف کی ذرہ بھی پرواہ نہیں کی۔تین سال کی متواتر تکلیف کے بعد بعض رؤسائے مکہ کی انسانیت اس ظالمانہ فعل پر بغاوت کرنے لگی اور انہوں نے اس معاہدہ کو جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کیا گیا تھا چاک کر دیا 16 اور آپ اس وادی سے نکل کر باہر آ گئے مگر آپ کے بوڑھے چچا اور وفادار بیوی ان صدمات کے اثر سے نہ بچ سکے اور کچھ دنوں کے بعد فوت ہو گئے 17۔اہل طائف کو تبلیغ اہل مکہ کی بے پروائی کو دیکھ کر آپ نے عرب کے دوسرے شہروں کی طرف توجہ کی اور طائف کے لوگوں کو خدائے واحد پرستش کی دعوت دینے کے لئے تشریف لے گئے۔طائف مکہ سے 60 میل کے فاصلہ پر ایک پرانا شہر ہے۔اس شہر کے لوگوں کو جب آپ نے خدا کا کلام سنایا تو وہ مکہ والوں سے بھی زیادہ ظالم ثابت ہوئے۔پہلے انہوں نے گالیاں دیں پھر کہا کہ شہر سے نکل جاویں۔جب آپ واپس آ رہے تھے تو بدمعاشوں اور کتوں کو آپ کے پیچھے لگا دیا۔پتھر پر پتھر چاروں طرف سے آپ پر پڑتے اور کتے پیچھے دوڑتے تھے ، سر سے