سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 246 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 246

سيرة النبي عمال 246 جلد 2 نے کہا کہ یہی میرا عقیدہ ہے اور اس عقیدہ کی وجہ سے ان لوگوں کو ظالموں کے ہاتھوں میں نہیں دے سکتا۔پھر درباریوں سے کہا کہ مجھے تمہارے غصہ کی بھی پرواہ نہیں۔میں خدا کو بادشاہت پر ترجیح دیتا ہوں 12۔ہے اہل مکہ کا آپ کے پچھا کونگ کرنا اورال کے رسول کی یہ کہا ہے کو اور اہل مکہ نے رسول کریم ع زیادہ تکلیفیں دینی شروع کیں اور آکر آپ کے چچا کو جو مکہ کے بڑے رئیس تھے اور ان کی وجہ سے لوگ آپ کو زیادہ دکھ دینے سے ڈرتے تھے کہا کہ آپ کسی اور رئیس کا لڑکا اپنا لڑکا بنا لیں اور محمد ﷺ کو ہمارے حوالہ کر دیں تاہم اس کو سزا دیں۔انہوں نے کہا یہ عجیب درخواست ہے تم چاہتے ہو کہ میں تمہارے لڑکے کو لے کر اپنا مال اس کے حوالہ کر دوں اور اپنے لڑکے کو تمہارے حوالہ کر دوں کہ تم اسے دکھ دے دے کر مار دو؟ کیا کوئی جانور بھی ایسا کرتا ہے کہ اپنے بچہ کو مارے اور دوسرے کے لڑکے کو پیار کرے؟ جب اہل مکہ ناامید ہوئے تو انہوں نے درخواست کی کہ اچھا آپ اپنے بھتیجے کو یہ سمجھائیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے ایک ہونے پر اس قدر زور نہ دیا کرے اور یہ نہ کہا کرے کہ بتوں کی پرستش جائز نہیں اور جو کچھ چاہے کہے۔چنانچہ آنحضرت ﷺ کو ان کے چچانے بلا کر کہا کہ مکہ کے رؤسا ایسا کہتے ہیں کیا آپ ان کو خوش نہیں کر سکتے ؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ آپ کے مجھ پر بہت احسان ہیں مگر میں آپ کے لئے خدا کو نہیں چھوڑ سکتا۔اگر آپ کو لوگوں کی مخالفت کا خوف ہے تو آپ مجھ سے الگ ہو جائیں مگر میں اس صداقت کو جو مجھے خدا سے ملی ہے ضرور پیش کروں گا۔یہ نہیں ہوسکتا کہ میں اپنی قوم کو جہالت میں مبتلا دیکھوں اور خاموش بیٹھا رہوں 13۔صلى الله تبلیغ توحید سے روکنے کی ایک اور کوشش جب اہل مکہ کو اس سے بھی امیدی ہوئی تو انہوں نے ایک رئیس کو اپنے میں سے چنا اور اس کی معرفت آپ کو کہلا بھیجا کہ آپ یہ بتائیں کہ