سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 241
سيرة النبي عمال 241 جلد 2 چھوڑوں گا۔اور زبیر ایک اور مومن تھے جن کی عمر 15 سال کے قریب تھی۔ان کو ان کے رشتہ داروں نے قید کر لیا اور تکلیف دینے کے لئے جس جگہ ان کو بند کیا ہوا تھا اس میں دھواں بھر دیتے تھے مگر وہ اپنے ایمان پر پختہ رہے اور اپنی بات کو نہ چھوڑا 5۔ایک اور نو جوان کی والدہ نے ایک نیا طریق نکالا اس نے کھانا کھانا چھوڑ دیا اور کہا جب تک تو اپنے آباء کی طرح عبادت نہیں کرے گا اُس وقت تک میں کھانا نہیں کھاؤں گی مگر اس نوجوان نے جواب دیا کہ میں دنیا کے ہر معاملہ میں ماں باپ کی فرمانبرداری کروں گا مگر خدا تعالیٰ کے معاملہ میں ان کی نہیں مانوں گا کیونکہ خدا تعالیٰ کا تعلق ماں باپ سے بھی زیادہ ہے 6۔غرض سوائے ابو بکر اور خدیجہ کے آپ پر ابتدائی زمانہ میں ایمان لانے والے سب نوجوان تھے جن کی عمر 15 سال سے لے کر 25 سال تک کی تھیں۔پس یوں کہنا چاہئے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جنہوں نے بوجہ یتیم ہونے کے نہایت چھوٹی عمر سے اپنے لئے راستہ بنانے کی مشق کی جب ان کو خدا تعالیٰ نے مبعوث کیا تو اُس وقت بھی آپ کے گرد نوجوان ہی آکر جمع ہوئے پس اسلام اپنی ابتدا کے لحاظ سے نوجوانوں کا دین تھا۔اہل مکہ کوعلی الاعلان تبلیغ چونکہ ہر نبی کے لئے عام تبلیغ کرنی ضروری ہوتی ہے آپ نے ایک دن ایک بلند جگہ پر کھڑے ہو کر مختلف گھرانوں کا نام لے کر بلانا شروع کیا۔چونکہ لوگ آپ پر بہت ہی اعتبار کرتے تھے سب لوگ جمع ہونے شروع ہو گئے اور جو لوگ خود نہ آ سکتے تھے انہوں نے اپنے قائم مقام بھیجے تا کہ سنہیں کہ آپ کیا کہتے ہیں۔جب سب آ کر جمع ہو گئے تو آپ نے فرمایا کہ اے اہل مکہ! اگر میں تم کو یہ ناممکن خبر دوں کہ مکہ کے پاس ہی ایک بڑا لشکر اترا ہوا ہے جو تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیا تم میری بات مان لو گے؟ یہ بات بظاہر ناممکن تھی کیونکہ مکہ اہل عرب کے نزدیک ایک متبرک مقام تھا اور یہ خیال بھی نہیں ہو