سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 240
سيرة النبي ع 240 جلد 2 آپ نبوت کا دعوی کریں اُس وقت حضرت ابو بکر مکہ کے ایک رئیس کے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے۔اس رئیس کی لونڈی آئی اور اس نے آکر بیان کیا کہ خدیجہ کو معلوم نہیں کہ کیا ہو گیا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ میرے خاوند اسی طرح نبی ہیں جس طرح حضرت موسی تھے۔لوگ اس خبر پر ہنسنے لگے اور اس قسم کی باتیں کرنے والوں کو پاگل قرار دینے لگے مگر حضرت ابوبکر جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات سے بہت گہری واقفیت رکھتے تھے اُسی وقت اٹھ کر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر آئے اور پوچھا کہ کیا آپ نے کوئی دعوی کیا ہے؟ آپ نے بتایا ہاں ! اللہ تعالیٰ نے مجھے دنیا کی اصلاح کے لئے مبعوث کیا ہے اور شرک کے مٹانے کا حکم دیا ہے۔حضرت ابوبکر نے بغیر اس کے کہ کوئی اور سوال کرتے جواب دیا کہ مجھے اپنے باپ کی اور ماں کی قسم ! کہ تو نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور میں نہیں مان سکتا کہ تو خدا پر جھوٹ بولے گا پس میں ایمان لاتا ہوں کہ خدا کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور یہ کہ آپ خدا تعالیٰ کی طرف سے رسول ہیں 4۔اس کے بعد ابو بکر نے ایسے نوجوانوں کو جمع کر کے جوان کی نیکی اور تقویٰ کے قائل تھے سمجھانا شروع کیا اور سات آدمی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے۔یہ سب نوجوان تھے جن کی عمر 12 سال سے لے کر 25 سال تک تھی۔ایمان لانے والوں پر مصائب کے ہجوم سچائی کا قبول کرنا آسان کام نہیں۔مکہ کے لوگ جن کا گزارہ ہی بتوں کے معبدوں کی حفاظت اور مجاورت پر تھا وہ کب اس تعلیم کو برداشت کر سکتے تھے کہ ایک خدا کی پرستش کی تعلیم دی جائے۔جو نہی ایمان لانے والوں کے رشتہ داروں کو معلوم ہوا کہ ایک ایسا مذہب مکہ میں جاری ہوا ہے اور ان کے عزیز اس پر ایمان لے آئے ہیں انہوں نے ان کو تکلیف دینی شروع کی۔حضرت عثمان کو ان کے چچانے باندھ کر گھر میں قید کر دیا اور کہا کہ جب تک اپنے خیالات سے تو بہ نہ کرے میں نہیں