سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 235
سيرة النبي ع 235 جلد 2 محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے بعد جب یہ لوگ آئے تو ان کی والدہ نے بھی چاہا کہ آپ کو بھی کسی خاندان کے سپرد کر دیں مگر ہر ایک عورت اس بات کو معلوم کر کے کہ آپ یتیم ہیں آپ کو لے جانے سے انکار کر دیتی۔کیونکہ وہ ڈرتی تھی کہ دن باپ کے بچہ کی پرورش پر انعام کون دے گا۔اس طرح یہ آئندہ بادشاہوں کا سردار ہونے والا بچہ ایک ایک کے سامنے پیش کیا گیا اور سب نے اس کے لے جانے سے انکار کر دیا۔صلى الله مگر خدا تعالیٰ کی آپ ﷺ کی دائی حلیمہ کا عجیب و غریب واقعہ قدرتیں بھی عجیب ہوتی ہیں اس نے اس مبارک بچہ کی والدہ کا دل رکھنے کے لئے اور اس بچہ کے گاؤں میں پرورش پانے کے لئے اور سامان کر چھوڑے تھے۔یہ لوگ جو بچے لینے کے لئے آئے تھے ان میں سے غریب عورت حلیمہ نامی بھی تھی۔جس طرح محمد ( ﷺ ) ایک ایک عورت کے سامنے کئے جاتے تھے اور رد کر دیے جاتے تھے اسی طرح وہ عورت ایک ایک گھر میں جاتی تھی اور رد کر دی جاتی تھی۔چونکہ وہ غریب تھی اور کوئی شخص پسند نہ کرتا تھا کہ اس کا بچہ غریب کے گھر پرورش پا کر تکلیف اٹھائے۔یہ عورت مایوس ہو گئی تو اپنے ساتھ والوں کے طعنوں کے ڈر سے اس نے ارادہ کیا کہ وہ آپ کو ہی لے جائے چنانچہ وہ آپ کو ہی ساتھ لے گئی۔آپ ﷺ کی والدہ کی وفات جب آپ نے کچھ ہوش سنبھالی تو آپ کی دائی آپ کو آپ کی ماں کے پاس چھوڑ گئی۔وہ آپ کو اپنے ماں باپ کے گھر مدینہ لے گئیں اور وہاں کچھ عرصہ رہ کر جب مکہ کی طرف واپس آ رہی تھیں تو راستہ میں ہی فوت ہو گئیں اور محمد کے چھ سال کی عمر میں اپنی ماں کی محبت بھری گود سے بھی محروم رہ گئے۔کسی نے آپ کو مکہ آپ کے دادا کے پاس پہنچا دیا جو دو سال کے بعد جب آپ آٹھ سال کے ہوئے فوت ہو گئے اور آپ کو آپ کے چا ابو طالب نے اپنی کفالت میں لے لیا۔اس طرح یکے بعد دیگرے اپنے محبت