سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 236
سيرة النبي عالم 236 جلد 2 کرنے والوں کی گود سے آپ جدا ہوتے رہے حتی کہ آپ جوانی کو پہنچے۔غریب گھرانے میں پرورش جن گھروں میں آپ نے پرورش پائی وہ امیر گھر نہ تھے۔وہاں میز بچھا کر کھانا نہیں ملتا تھا بلکه مالی، حالی اور ملکی رواج کے ماتحت جس وقت کھانے کا وقت آتا بچے ماں کے گرد جمع ہو کر کھانے کے لئے شور مچا دیتے اور ہر ایک دوسرے سے زیادہ حصہ چھین لے جانے کی کوشش کرتا۔آپ کے چا کی نوکر بیان کرتی ہے کہ آپ کی یہ عادت نہ تھی۔جس وقت گھر کے سب بچے چھینا جھپٹی میں مشغول ہوتے آپ ایک طرف خاموش ہو کر بیٹھ جاتے اور اس بات کا انتظار کرتے کہ بچی خود ان کو کھانا دے اور جو کچھ آپ کو دیا جاتا اسے خوش ہو کر کھا لیتے۔صادق اور امین جب آپ کی عمر میں سال کی ہوئی تو آپ ایک ایسی سوسائٹی میں شامل ہوئے جس کا ہر ایک ممبر اس امر کی قسم کھاتا تھا کہ اگر کوئی مظلوم خواہ کسی قوم کا ہو اسے مدد کے لئے بلائے گا تو وہ اس کی مدد کرے گا یہاں تک کہ اس کا حق اس کو مل جائے۔اور اس نوجوانی کی عمر میں آپ کا یہ مشغلہ تھا کہ جب کسی شخص کی نسبت معلوم ہوتا کہ اس کا حق کسی نے دبا لیا ہے تو آپ اس کی مدد کرتے یہاں تک کہ ظالم مظلوم کا حق واپس کر دیتا۔آپ کی سچائی ، امانت اور نیکی اس عمر میں اس قدر مشہور ہوگئی کہ لوگ آپ کو صادق اور امین کہا کرتے تھے۔حضرت خدیجہ سے شادی جب اس نیکی کا چرچا بہت ہونے لگا تو 25 سال کی عمر میں آپ کو مکہ کی ایک مالدار تا جر عورت خدیجہ نے نفع پر شراکت کا فیصلہ کر کے تجارت کے لئے شام کو بھیجا اور آپ کے ساتھ ایک غلام بھی گیا۔اس سفر میں آپ کی نیکی اور دیانتداری کی وجہ سے اس قدر نفع ہوا کہ پہلے خدیجہ کو کبھی اس قدر نفع نہ ملا تھا اور آپ کے نیک سلوک اور شریفانہ برتاؤ کا ان کے غلام پر جس کو انہوں نے ساتھ بھیجا تھا اس قدر اثر ہوا کہ وہ آپ کو نہایت ہی پیار