سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 230
سيرة النبي عمال 230 جلد 2 ہوں۔(3) جبکہ وہ لوگ جن کو غلام بنایا گیا ہو اس مظلوم قوم کا جس سے وہ اس کی جان سے پیاری چیز مذہب چھڑانا چاہتے تھے خرچ جنگ ادا کرنے کے لئے تیار نہ ہوں۔اگر یہ باتیں نہ ہوں یعنی جنگ دنیاوی ہو یا وہ شخص جس کو غلام بنایا گیا ہے جنگ میں شامل نہ ہو یا جنگ میں تو شامل ہو مگر خرچ جنگ میں سے اپنا حصہ ادا کرنے کے لئے تیار ہو تو ایسے شخص کو غلام بنانے یا غلام رکھنے کو اسلام ایک خطر ناک جرم قرار دیتا ہے۔اور ہر ایک شخص خیال کر سکتا ہے کہ اگر کوئی شخص اس لئے تلوار اٹھاتا ہے کہ دوسرے سے جبراً اس کا مذہب چھڑوا دے جس کی نسبت اس دوسرے شخص کا یہ یقین ہے کہ وہ نہ صرف اس کے اس دنیا میں کام آنے والا ہے بلکہ مرنے کے بعد بھی ہمیشہ اسی مذہب نے اس کو ابدی ترقیات دلانی ہیں اور پھر جب پکڑا جائے تو اس خرچ کو ادا کرنے سے وہ خود یا اس کی قوم کے لوگ انکار کر دیں جو اس قوم کو کرنا پڑا تھا جس پر ایسا ظالمانہ حملہ کیا گیا تھا تو وہ ضرور اس امر کا مستحق ہے کہ اس کی آزادی اس سے چھین لی جائے۔اسلام در حقیقت ایسے شخص کو جو مذہب بزور شمشیر پھیلانا چاہتا ہے اور اپنی طاقت کے گھمنڈ پر دوسرے کے عقائد میں دخل دینا چاہتا ہے انسانیت سے خارج قرار دیتا ہے اور بنی نوع انسان کے لئے اسے ایک خطرناک وجود قرار دیتا ہے اس لئے اُس وقت تک کہ اس کے اندر حقیقی ندامت پیدا ہوا سے اس کی آزادی سے محروم کرتا ہے۔ایک صحابی فرماتے ہیں کہ ہم سات بھائی تھے ہمارے پاس ایک لونڈی تھی ہم میں سے سب سے چھوٹے بھائی نے اس کو ایک تھپڑ مار دیا۔رسول کریم ﷺ نے حکم فرمایا کہ اسے آزاد کر دو 1۔اسی طرح ایک اور صحابی فرماتے ہیں کہ میں ایک دفعہ ایک غلام کو مارنے لگا مجھے اپنے پیچھے سے ایک آواز آئی جسے میں پہچان نہ سکا۔اتنے میں میں نے دیکھا کہ رسول کریم سے چلے آرہے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ اے ابو مسعود ! جس قدر تجھ کو اس غلام پر مقدرت حاصل ہے اس سے کہیں زیادہ تجھ پر خدا کو مقدرت حاصل ہے۔وہ صل الله