سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 231
سيرة النبي علي 231 جلد 2 کہتے ہیں ڈر کے مارے میرے ہاتھ سے کوڑا جا پڑا اور میں نے کہا یا رسول اللہ ! یہ غلام خدا کے لئے آزاد ہے۔آپ نے فرمایا اگر تو اسے آزاد نہ کرتا تو آگ تیرا منہ جھلستی 2۔اسی طرح رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ کوئی شخص اپنے نوکر سے وہ کام نہ لے جو وہ کر نہیں سکتا اور اگر زیادہ کام ہو تو خو د ساتھ لگ کر کام کرائے 3۔اسی طرح آپ فرماتے ہیں کہ اگر کسی کا نوکر کھانا پکا کر اس کے سامنے رکھے تو اصل حق تو یہ ہے کہ وہ اسے ساتھ بٹھا کر کھلائے اگر ایسا نہ کر سکے تو کم سے کم اس میں سے اس کو حصہ دے دے کیونکہ آگ کی تکلیف تو اسی نے اٹھائی ہے 4۔مزدوری کے متعلق آپ فرماتے ہیں کہ مزدور کا پسینہ سوکھنے سے پہلے اس کی مزدوری اس کو ادا کر دی جائے 5۔اور اس کے حق کے متعلق فرماتے ہیں کہ جو شخص مزدور کو اس کا حق ادا نہیں کرتا قیامت کے دن میں اس کی طرف سے جھگڑوں گا6۔جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر کوئی مالک مزدور کی مزدوری نہ دے تو حکومت کا فرض ہے کہ اس کو دلوائے۔اسی طرح ایک حق مزدور کا شریعت نے یہ مقرر کیا ہے کہ اگر اس کو مزدوری کافی نہیں دی جاتی تو وہ حکومت کے ذریعہ سے اپنی داد رسی کرائے۔اور اگر مزدور سیاسی یا تمدنی حالات کی وجہ سے مجبور ہوں کہ اس آقا کے ساتھ کام کریں تو حکومت کا فرض ہوگا کہ دونوں فریق کا حال سن کر مناسب فیصلہ کرے۔“ ( احمدیت یعنی حقیقی اسلام صفحہ 213 تا 215 ایڈیشن چہارم مطبوعہ ضیاء الاسلام پریس ربوہ 1977ء) 1: مسلم کتاب الایمان باب صحبة الممالیک صفحہ 730 حدیث نمبر 4302 مطبوعہ ریاض 2000ء الطبعة الثانية 2: مسلم کتاب الایمان باب صحبة الممالیک صفحہ 732 حدیث نمبر 4308 مطبوعہ ریاض 2000 الطبعة الثانية