سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 10
سيرة النبي علي 10 جلد 2 کرتے ہیں کہ اس دن میرے دل میں جوش تھا اور میں چاہتا تھا کہ ان کفار نا نجار سے ان کے مظالم کا بدلہ لوں۔کیونکہ ان کا ایک ایک ظلم ہمیں یاد آ رہا تھا۔مگر جب میں نے اپنے دائیں بائیں دیکھا تو دو چودہ چودہ سالہ لڑکوں کو دیکھا اور ان کو دیکھ کر میرے تمام حوصلے پست ہو گئے۔کیونکہ قاعدہ ہے کہ انسان کے دائیں بائیں جب مضبوط اور بہادر ہوں تو وہ اپنی شیخ کے جو ہر دکھا سکتا ہے ورنہ اس کو ہر وقت یہی خوف رہتا ہے کہ کوئی پیچھے سے مجھ پر حملہ ہی نہ کر دے پس ان کو اپنے دائیں بائیں بچے دیکھ کر رنج ہونا قدرتی امر تھا۔لیکن وہ کہتے ہیں کہ ابھی میں اسی خیال میں تھا کہ ان میں سے ایک نے میرے کہنی ماری اور آہستہ سے کہا ( تا کہ دوسرا بھائی نہ سن پائے ) کہ چچا ! کفار کی فوج میں ابو جہل کون سا ہے؟ اس کے متعلق سنا ہے کہ وہ اسلام اور آنحضرت ﷺ کا بڑا دشمن ہے اور اس نے مسلمانوں کو بہت تکلیفیں پہنچائی ہیں۔میں اس کی جرات پر حیران ہو ہی رہا تھا کہ اسی طرح دوسرے نے میرے کہنی ماری اور اسی طرح آہستہ سے کہا ( تا کہ دوسرا بھائی نہ سن پائے ) کہ چا! ابو جہل کہاں ہے؟ سنا ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ کا بڑا دشمن ہے اور اس نے حضور کو بہت دکھ دیئے ہیں۔میں ان کی اس جرات پر متعجب ہوا اور یہ ان کی اتنی بڑی جرات تھی کہ میرے دل میں بھی ابو جہل کے متعلق خیال نہ تھا۔میں نے ان کو اشارہ کیا میرے اشارہ کرتے ہی وہ اس طرح جھپٹے جس طرح عقاب اپنے شکار پر جھپٹتا ہے۔ابھی جنگ شروع نہ ہوئی کہ ان دونوں نے اپنے حملوں سے اس کو گھائل کر دیا 4 یہ جوشِ فدویت و فدا کاری صرف مردوں تک عورتوں میں فدا کاری ہی محدود نہ تھا بلکہ عورتوں میں بھی اطاعت اور جان نثاری کی وہ سپرٹ پیدا ہو گئی تھی جس کی نظیر نہیں۔چنانچہ ایک موقع پر جب یہ مشہور ہوا کہ آنحضرت علہ شہید ہو گئے تو ایک عورت گھر سے نکل پڑی۔ایک صحابی جو