سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 9 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 9

سيرة النبي عمال 9 جلد 2 طور پر مل لیتے تھے۔جس کے ساتھیوں کی فدائی کی یہ کیفیت ہے ان کا تم مقابلہ نہیں کر سکتے۔میں نے بادشاہوں کے دربار دیکھے ہیں مگر ان کے خدام اور ملازمین کی بھی یہ کیفیت نہیں دیکھی 2۔ایک اور واقعہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے مکہ صحابہ میں روح فدویت سے مدینہ کو ہجرت کی تو مدینہ والوں نے معاہدہ کیا کہ اگر کوئی شخص مدینہ پر چڑھ کر آئے گا تو ہم مدافعت کریں سے لیکن اگر آپ کو شریروں کی شرارت کے انسداد کے لئے باہر جانا پڑے تو ہم نہیں جائیں گے۔یہ ایک سمجھوتہ تھا جو آپس میں ہو گیا تھا لیکن دشمن وہاں بھی آپ کو چین سے بیٹھنے نہیں دینا چاہتا تھا۔بار بار مدینہ پر بھی چڑھ چڑھ کر آتا تھا۔چنانچہ ایک دفعہ ضروری معلوم ہوا کہ دشمن کے شر کے دفعیہ کے لئے آنحضرت ﷺ باہر نکلیں۔اُس وقت آپ نے مدینہ کے مسلمانوں کو جمع کیا اور فرمایا مجھے باہر دشمن کے مقابلہ کے لئے جانے کی ضرورت ہے مگر آپ لوگ اپنے معاہدہ کی رو سے مجبور نہیں کہ میرے ساتھ باہر جائیں۔مدینہ کے مسلمانوں میں سے ایک بڑے سردار نے کہا کہ حضور ! آپ کیا ارشاد فرماتے ہیں۔ہم آپ کے مرید ہیں ہم موسٹی کے ساتھیوں کی طرح یہ نہیں کہہ سکتے کہ جا تو اور تیرا رب جا کر لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں۔بلکہ ہم وہ ہیں کہ ہم آپ کے دشمن کے ساتھ آپ کے آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے، دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک ہماری لاشوں کو پامال نہ کر لے۔آپ اگر سمندر میں گھوڑا ڈال دیں تب بھی ہمارے گھوڑے کی باگ نہیں رکے گی بلکہ جہاں آپ کا اشارہ ہو گا وہیں ہم جائیں گے 3۔بچوں میں جان شاری یہ بڑوں کا حال ہے بچوں کی یہ کیفیت ہے کہ بدر کے موقع پر جبکہ مسلمانوں کی تعداد کفار کے ہزار کے مقابلہ میں تین صد تھی ایسا واقعہ ہوا کہ ایک صحابی جو بہت بڑے جری تھے خود بیان