سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 225 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 225

سيرة النبي عمال 225 جلد 2 اعلیٰ درجہ کا انتظام کرے۔اسلام نے اس کا خاص طور پر حکم دیا ہے اور قضا کے لئے یہ احکام مقرر کئے ہیں کہ وہ کسی کی رعایت نہ کریں، رشوت نہ لیں، ان کے پاس کوئی سفارش نہ کی جائے اور نہ وہ سفارش کو قبول کریں۔شہادت اور ثبوت پر مقدمہ کا فیصلہ کریں، شہادت اور ثبوت مدعی سے طلب کریں ورنہ مدعا علیہ سے قسم لیں۔شہادت کے موقع پر دیکھ لیں کہ شہادت دینے والے لوگ ثقہ اور معتبر ہیں جھوٹے اور او باش نہیں ہیں۔قاضیوں کے متعلق حکم دیا کہ وہ لائق اور کام کے قابل ہوں۔قاضیوں کے فیصلہ کے متعلق یہ حکم دیا کہ گو قاضی غلطی کر سکتا ہے مگر چونکہ فی مابین اختلافات کا فیصلہ انسانوں نے ہی کرنا ہے جو غلطی سے پاک نہیں ہیں اور چونکہ اگر جھگڑا کسی جگہ پر جا کر ختم نہ ہو تو فساد بڑھتا ہے اس لئے قاضیوں کے فیصلہ کو سب فریق کو قبول کرنا ہو گا خواہ اس کو غلط مانیں یا صحیح۔اور جو شخص اس امر میں چون و چرا کرے اور قضا کے فیصلہ کی ہتک کرے وہ ہرگز ایک مسلم شہری نہ سمجھا جائے کیونکہ وہ نظام سلسلہ کو درہم برہم کرتا ہے۔کمزوروں اور ناسمجھوں کو اپنے حقوق کے سمجھنے میں مدد دینے کے لئے مفتیوں کا ایک سلسلہ جاری کیا جو قانون کے واقف ہوں مگر شرط یہ رکھی کہ یہ مفتی صرف حکومت ہی مقرر کر سکتی ہے اپنے طور پر کوئی شخص مفتی نہیں بن سکتا۔ان فیصلوں کا اجرا حکومت کے اختیار میں رکھا ہے اور حکم دیا ہے کہ ان کے اجرا میں رحم یا لحاظ سے کام نہ لیا جائے خواہ کوئی بڑا آدمی ہو خواہ چھوٹا۔حتی کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر میری بیٹی چوری کرے تو میں اس کو بھی سزا دینے سے دریغ نہیں کروں گا 4۔حضرت عمر نے اپنے لڑکے کو ایک جرم میں خود اپنے ہاتھ سے کوڑے صلى لگائے 5۔ایک فرض حکومت کا یہ مقرر کیا گیا ہے کہ ملک کی عزت اور آزادی کی حفاظت کرے۔قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے مسلمانو ! سرحدوں پر ہمیشہ مضبوط چوکیاں بنائے رکھو 6۔جو دوسری حکومتوں کے مقابلہ میں ملک کی حفاظت کریں اور امن اور