سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 218 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 218

سيرة النبي علي جبراً روکنا پڑا تھا۔218 جلد 2 اسی طرح لکھا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ایک گدھے کو دیکھا کہ اس کے منہ پر داغ دیا ہوا تھا۔آپ ﷺ نے اسے نا پسند فرمایا اور فرمایا کہ منہ پر جانور کو زیادہ صلى الله تکلیف ہوتی ہے آئندہ داغ ران پر دیا جائے 14۔اور آپ علیہ کے حکم سے ہی ران پر داغ دینے کا رواج چلا۔اسی طرح آپ نے دیکھا کہ کسی نے قمری کے بچوں کو پکڑ لیا۔آپ نے فرمایا کہ اس طرح اسے بچوں کی وجہ سے تکلیف نہ دو۔فوراً بچے اڑا دو 15۔اور آپ نے فرمایا کہ جانوروں پر رحم کرنے اور بھوک میں کھلانے اور پیاس میں پلانے پر بھی خدا تعالیٰ رحم کرتا ہے۔پھر مسلم شہری کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ دوسرے لوگوں کی جانوں کو خطرے میں نہ ڈالے۔چنانچہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس علاقہ میں کوئی وبائی بیماری ہو وہاں کے لوگ دوسرے شہروں میں نہ جائیں اور دوسرے لوگ اس علاقہ میں نہ آئیں 16۔کیا ہی لطیف حکم ہے جسے آج قرنطینہ کے نام سے ایک نئی ایجاد قرار دیا جا رہا ہے حالانکہ اس حکم کی ابتدا اسلام سے شروع ہوئی ہے۔اگر اس حکم پر لوگ عمل کریں تو نہ قرنطینہ کے قیام کی ضرورت رہتی نہ سرکاری نگرانیوں کی۔خود بخود ہی وبائیں دب سکتی ہیں۔مسلم شہری کا یہ بھی فرض ہے کہ جس وقت وہ اپنے ہمسایہ کو مصیبت میں اور مشکل میں دیکھے اور اس کے پاس مال ہو تو وہ اپنے مال سے اسے بقدر ضرورت قرض دے اور اُس وقت جبکہ وہ مصیبت میں مبتلا ہے اس سے یہ حساب نہ کرنے بیٹھے کہ تو مجھے اس کے بدلہ میں کیا دے گا کیونکہ اس کے اخلاق وسیع اور اس کا حوصلہ بلند ہونا چاہئے۔اسے تکلیف اور دکھ کے اوقات میں لوگوں کا مددگار ہونا چاہئے اور اپنے بھائیوں کی مدد سے اپنا فرض سمجھنا چاہئے۔اسے محنت سے اپنی روزی کمانی چاہئے نہ که صرف روپیہ قرض دے کر اور لوگوں کو ان کی تکلیف کے وقت اپنے قبضہ میں لا کر یا