سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 217 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 217

سيرة النبي الله 217 جلد 2 ہو۔مثلاً نگا نہ پھرے یا اور ایسی ہی کوئی حرکت نہ کرے۔پھر اسلام ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ایک مسلم شہری کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ لوگوں کو اچھی باتیں سکھاتا رہے اور بد باتوں سے روکتا رہے مگر نرمی اور محبت سے سکھائے تا لوگ جوش میں آکر حق سے اور بھی دور نہ ہو جائیں۔اور مسلم شہری کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ لوگوں کو علم سکھائے اور جو کچھ اُسے معلوم ہو اُسے چھپائے نہیں بلکہ لوگوں تک اس کا فائدہ عام کرے۔کیونکہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص کسی علم کو چھپا تا ہے اور باوجود لوگوں کے پوچھنے کے ظاہر نہیں کرتا اس کے منہ میں قیامت کے دن آگ کی لگام ہو گی 12۔اس حکم کا یہ مطلب نہیں کہ جو ایجادیں وغیرہ لوگ کریں ان کو لوگوں پر ظاہر کر دیں اور خود فائدہ نہ اٹھائیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ علم کو دنیا سے ضائع نہ ہونے دیں اور اس کو چھپائیں نہیں ورنہ فائدہ اٹھانا جائز اور درست ہے اور پیٹنٹ یا رجسٹری کے رواج سے تو علوم کی حفاظت کا ایک دروازہ کھل ہی گیا ہے۔مسلم شہری کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ بہادر بنے لیکن ظالم نہ ہو۔وہ نہ کمزوروں پر، نہ عورتوں پر، نہ بچوں پر، نہ اور کسی پر ظلم کرے بلکہ وہ جانوروں تک پر ظلم نہ کرے۔چنانچہ لکھا ہے کہ عبداللہ جو حضرت عمرؓ خلیفہ ثانی کے لڑکے تھے انہوں نے ایک دفعہ چند نو جوانوں کو دیکھا کہ زندہ جانوروں پر نشانہ پکار رہے ہیں۔جب ان لوگوں نے آپ کو دیکھا تو بھاگ گئے۔آپ نے فرمایا خدا ان پر ناراض ہوا جنہوں نے یہ کام کیا۔میں نے رسول کریم ﷺ سے سنا ہے آپ نے فرمایا خدا اس پر ناراض ہوا جس نے کسی جاندار چیز کو نشانہ بنایا 13 یعنی باندھ کر یا پر وغیرہ تو ڑ کر۔ورنہ یوں شکار اسلام صلى میں منع نہیں۔اسلام کا یہ حکم کیسا لطیف ہے جس کی تیرہ سوسال سے تعلیم دی جاتی رہی ہے جو ابھی بعض متمدن ممالک کے ذہنوں میں داخل نہیں ہوئی کیونکہ تھوڑا ہی عرصہ ہوا بعض مغربی ممالک میں زندہ کبوتروں پر نشانے پکانے کی ایک لہر چلی تھی اور بعض جگہ اسے