سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 212
سيرة النبي الله 212 جلد 2 جس میں ایک عام قاعدہ بتایا ہے کہ عزیزوں اور رشتہ داروں کو آپس میں جدا نہ کرنا چاہئے بلکہ ان کو آپس میں ملنے کا موقع دیتے رہنا چاہئے۔آپس کے تعلقات کو قطع کرنے والے سب امور سے منع فرمایا ہے مثلاً یہ کہ کوئی کسی شخص پر الزام نہ لگائے اور اگر کوئی بدکاری کا الزام لگائے اور اس کو ثابت نہ کر سکے تو اسے سخت سزا دی جائے۔اسی طرح حکم دیا کہ نکاح پر نکاح کی درخواست نہ دے10۔اگر معلوم ہو جائے کہ کوئی شخص کسی جگہ رشتہ کی تحریک کر رہا ہے تو گوا سے معلوم ہو کہ اگر میں درخواست دوں تو مجھے کامیابی کی زیادہ امید ہے اُس وقت تک خاموش رہے جب تک پہلی درخواست کا فیصلہ نہ ہو جائے۔“ احمدیت یعنی حقیقی اسلام صفحہ 190 ایڈیشن چہارم مطبوعہ ضیاء الاسلام پریس ربوہ 1977ء) 1: ترمذى ابواب النكاح باب ماجاء فى التسوية بين الضرائر صفحہ 276 حدیث نمبر 1141 مطبوعہ ریاض 1999 ء الطبعة الاولى 2: بخاری کتاب المغازی باب مرض النبي اول صفحہ 756 حدیث نمبر 4450 مطبوعہ ریاض 1999 الطبعة الثانية 3:بخارى كتاب الادب باب رحمة الولد صفحہ 1049 حدیث نمبر 5995 مطبوعہ ریاض 1999 ء الطبعة الثانية 4 ترمذی ابواب البر والصلة باب ماجاء فى النفقة على البنات والاخوات صفحه 446 حدیث نمبر 1916 مطبوعہ ریاض 1999 ء الطبعة الاولى 5 ابن ماجه كتاب النكاح باب الفیل صفحہ 288 حدیث نمبر 2012 مطبوعہ ریاض 1999 ء الطبعة الاولى بخاری كتاب الاذان باب صلاة النساء خلف الرجال صفحہ 141،140 حدیث نمبر 870 مطبوعہ ریاض 1999 ء الطبعة الثانية