سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 211
سيرة النبي ع 211 جلد 2 نے عورتوں کو پورے حق دلائے ہیں۔اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ اسلام نے ماں پر خرچ کی کوئی ذمہ داری نہیں رکھی تمام اخراجات مرد پر رکھے ہیں۔اس وجہ سے مرد کی مالی ذمہ داری بہ نسبت عورت کے بہت زیادہ ہوتی ہے۔پس وہ زیادہ حصہ کا مستحق تھا۔بچوں کی پرورش، بیوی کی پرورش مرد کے ذمہ ہے۔عورت اگر نکاح کرے گی تو اس کا اور اس کی اولاد کا خرچ اس کے خاوند کے ذمہ ہوگا۔اگر نہ کرے گی جسے اسلام پسند نہیں کرتا تو وہ اکیلی جان ہو گی۔مگر مرد اگر نکاح کرے گا اور اسی کا اسلام اسے حکم دیتا ہے تو اسے اپنی بیوی اور بچوں کا خرچ برداشت کرنا ہو گا۔پس مرد کا عورت سے دُگنا حصہ مرد کی رعایت کے طور پر یا عورتوں کی ہتک کے طور پر نہیں ہے بلکہ واقعات کو مدنظر رکھ کر یہ حکم دیا گیا ہے اور عورتوں کو اس میں ہرگز نقصان نہیں بلکہ وہ شاید پھر بھی فائدہ میں رہتی ہیں۔“ احمدیت یعنی حقیقی اسلام صفحہ 184 تا 188 ایڈیشن چہارم مطبوعہ ضیاء الاسلام پریس ربوہ 1977ء) اسی تعلق میں مزید تحریر فرماتے ہیں :۔عورت اور مرد کے عام تعلقات کے متعلق یہ تعلیم دی ہے کہ مردوں کو عورتوں کے آرام کا خیال رکھنا چاہئے۔چنانچہ رسول کریم ﷺ نماز کے بعد تھوڑی دیر بیٹھے رہتے تا کہ پہلے عورتیں آرام سے گزر جائیں۔جب وہ گزر جاتیں تو پھر آپ اٹھتے اور دوسرے مرد بھی آپ کے ساتھ اٹھتے ؟۔سفر میں جب لوگ اونٹوں کو تیز کرتے تو آپ فرماتے کہ شیشوں کا بھی خیال رکھو۔یعنی عورتیں ساتھ ہیں وہ تمہاری طرح الله تکلیف برداشت نہیں کرسکتیں اس لئے آہستہ چلو تا ان کو تکلیف نہ ہو۔خاوندوں کو حکم دیا کہ سفر سے واپس آتے ہوئے گھر میں اچا نک داخل نہ ہوں بلکہ دن کے وقت اور پہلے سے مطلع کر کے آئیں تا کہ عورتیں گھر کی اور بدن کی صفائی کا اہتمام کر لیں 8۔عورتوں کے متعلق یہ بھی حکم دیا کہ ان کو ان کے بچوں سے جدا نہ کیا جائے۔