سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 210
سيرة النبي عالم 210 جلد 2 جس کے گھر لڑکی ہو اور وہ نہ اسے قتل کرے نہ اسے ذلیل کر کے رکھے نہ لڑکوں کو اس پر فضیلت دے تو خدا تعالیٰ اسے جنت دے گا۔اولاد کی صحت کا خیال رکھنے کا خاص حکم دیا ہے۔رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں اے لوگو! اپنے بچوں کو مخفی طور پر قتل نہ کرو 5۔کیونکہ مرد کا عورت سے ایام رضاعت میں ملنا جوانی میں جا کر بچے کے قومی کو نقصان دیتا ہے یعنی ان دنوں میں اس کا اثر خاص طور پر ظاہر ہوتا ہے۔اس ارشاد سے ایک عام قانون بچہ کی صحت کے خیال کا نکلتا ہے کیونکہ اس غرض کے لئے اگر شہوات طبعیہ کو روکنا پسند کیا گیا ہے تو دوسری قربانیاں تو اس سے ادنی ہی ہیں۔اہلی زندگی میں ایک سوال ورثہ کا ہے اس میں اسلام نے ایسی مکمل تعلیم دی ہے کہ تمام غیر متعصب لوگ خواہ کسی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں اس کی خوبی اور اس کی حکمت کو تسلیم کرتے ہیں۔اول تو اسلام نے ورثہ کے معاملہ میں عورتوں کو بھی حصہ دار مقرر کیا ہے۔دوسرے والدین کو حصہ دار مقرر کیا ہے۔سوم خاوند اور بیوی کو حصہ دار مقرر کیا ہے۔اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ رشتہ دار عقلاً ضرور وارث ہونے چاہئیں۔علاوہ مذکورہ بالا ہدایتوں کے شریعت اسلام حکم دیتی ہے کہ وارثوں کو ان کے ورثہ سے محروم نہ کیا جائے۔پس کوئی شخص اپنے مال سے وارثوں کو محروم نہیں کرسکتا۔ہاں مرنے والے کو یہ حق دیا ہے کہ اپنے مال میں سے ایک مثلث وصیت کر دے اس سے زیادہ مال وصیت کرنے کا کسی کو حق نہیں کیونکہ اس سے وارثوں کی حق تلفی ہوتی ہے۔مگر ساتھ ہی یہ حکم ہے کہ وصیت وارث کے حق میں نہیں کی جاسکتی۔وارثوں کو وہی حصہ ملے گا جو ان کے لئے مقرر ہو چکا ہے۔غیر وارث کو حصہ دیا جا سکتا ہے۔عورت کا حصہ مرد سے اکثر حالتوں میں نصف رکھا ہے جن میں برابر رکھا ہے وہاں خاص حکمتوں کے ماتحت کیا گیا ہے۔بعض لوگ اس فرق میں بے انصافی دیکھتے ہیں حالانکہ عورتوں کے حقوق اب تک بھی محفوظ نہیں ہیں۔صرف اسلام ہی ہے جس