سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 209
سيرة النبي علي 209 جلد 2 میاں بیوی کے تعلقات کے بعد اولاد پیدا ہوتی ہے جو تمدن کی گویا دوسری اینٹ ہیں۔اولاد کے متعلق اسلام نے یہ حکم دیا کہ ان کی عمدگی سے پرورش کی جائے۔والدین پر ان کا پالنا اور ان کی ضروریات کو پورا کرنا فرض ہے۔ان کو خرچ کی تنگی کی وجہ سے مار دینا جیسا کہ وحشی قبائل میں رواج تھا بصورت لڑکیوں کے بوجہ تکبر کے مار دینا جیسا کہ کئی جنگی قوموں میں دستور تھا منع ہے۔اولاد کی پیدائش کے متعلق حکم دیا کہ خاوند اگر چاہے کہ اس کے اولاد نہ ہو تو اس کے لئے عورت سے اجازت لینا ضروری ہو گا بغیر عورت کی اجازت کے اولا د کو روکا نہیں جاسکتا۔پھر فرمایا کہ بچوں کو علم اور اخلاق سکھائے جائیں اور بچپن سے ان کی تربیت کی جائے تا کہ وہ بڑے ہو کر مفید بن سکیں۔اولاد کے درمیان بھی یکساں سلوک کرنے کا حکم دیا۔بچپن میں ان کی خواہشات اور ضروریات کے مطابق سلوک تو خیر اور بات ہے مگر جب وہ بڑے ہو جائیں تو حکم دیا کہ جو تحفہ دے وہ سب کو دے ورنہ کسی کو نہ دے۔اولا د کو تربیت کی خاطر اگر مارنا پڑے تو حکم دیا کہ منہ پر نہ مارے کہ تمام آلاتِ حواس اس میں جمع ہیں اور ان کے نقصان سے بچہ کی آئندہ زندگی پر اثر پڑتا ہے۔لڑکیوں کی تربیت کے متعلق خاص حکم ہے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس کے گھر میں لڑکی پیدا ہو اور وہ اس کی اچھی طرح تربیت کرے تو اس کا یہ کام اس کو آگ سے بچانے والا ہو گا 3۔یعنی لڑکیوں کی اچھی طرح تربیت کرنی اور اُن سے حسن سلوک کے سبب سے اللہ تعالیٰ اس سے اچھا معاملہ کرے گا۔اسی طرح آپ نے فرمایا جس شخص کے ہاں لڑکے ہوں یا لڑکیاں ہوں یا اس کے ذمے بھائیوں یا بہنوں کی پرورش ہو اور وہ ان کو علم سکھائے اور اچھی طرح ان کی ضروریاتِ زندگی کا انتظام کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلہ میں اس شخص کو جنت دے گا 4۔یعنی وہ اس کام کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کے مزید فضل کو جذب کرے گا نہ یہ کہ خواہ وہ اور کوئی بدی کرے اس کا اثر اس کی روحانیت پر کوئی نہ ہوگا۔اسی طرح فرمایا