سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 8
سيرة النبي علم جان شاری کو فخر خیال کرتے ہیں۔صحابہ میں جوش عقیدت صلى الله 8 جلد 2 جب آنحضرت ﷺ مکہ سے مدینہ میں تشریف لائے تو ایک دفعہ آپ مسلمانوں کے ساتھ عمرے کے لئے مکہ کی طرف گئے۔کفار مکہ نے آپ کو اجازت نہ دی کہ آپ عمرہ کریں۔اس لئے وہاں صلح کرنی پڑی جس کا نام صلح حدیبیہ ہے۔کفار کا ایک آدمی جو اپنے تیں خیال کرتا تھا کہ وہ آداب ملاقات کا واقف اور شاہی درباروں کے قوانین کا ماہر ہے کفار کا سفیر بن کر آنحضرت اللہ کے حضور حاضر ہوا اس دعوی کے ساتھ کہ میں جاتے ہی اپنے رعب واثر سے جو چاہوں محمد (ع) سے منوا لوں گا۔وہ آیا اور آ کر اس نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ بیٹا ! ( عرب میں قاعدہ تھا کہ بڑے لوگ دوسروں کو اپنا بیٹا کہا کرتے تھے اسی کے مطابق اس نے اپنے آپ کو بڑا قرار دے کر آنحضرت ﷺ کو چھوٹا قرار دیا اور حضور کو بیٹا کہا ) تو ان لوگوں کی مدد پر نہ بھول یہ لوگ جو کہیں کہیں سے جمع ہو گئے ہیں جب وقت پڑے گا تجھے چھوڑ چھاڑ کر پرے ہو جائیں گے اور اس نازک وقت میں ہمیں جو تیری قوم کے ہیں تیرے کام آئیں گے۔کیا تو ان کی خاطر ہم سے بگاڑتا ہے؟ اسی قسم کی باتوں کے درمیان اس نے اپنی بڑائی کے اظہار کے لئے آپ کی ریش مبارک کو ہاتھ لگایا۔ایک صحابی جو پاس کھڑے تھے انہوں نے تلوار کے قبضہ سے اس کے ہاتھ کو پرے کر دیا۔پھر اس نے ہاتھ لگایا پھر انہوں نے اسی طرح قبضہ کا ٹھو کہ اس کے ہاتھ پر دیا۔اتنے میں نماز کا وقت آیا آنحضرت ﷺ نے وضو کیا۔وہ شخص خود جا کر اپنے لوگوں میں بیان کرتا ہے کہ تم محمد (ﷺ) کے مقابلہ کے خیال کو چھوڑ دو۔اس کا مقابلہ کرنا آسان نہیں۔کیونکہ وہ لوگ تو اس پر اس طرح فدا ہیں کہ پروانہ اُس طرح شمع پر قربان نہیں ہوتا۔میں نے دیکھا کہ وہ ( محمد ) وضو کر نے لگا۔وضو کے پانی کا ایک قطرہ تک زمین پر نہیں گرنے پایا سب کا سب اس کے ساتھی اپنے جسم پر ، اپنے مونہوں پر تبرک کے