سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 201
سيرة النبي الله 201 جلد 2 رسول کریم له شارح شریعت حضرت مصلح موعود کی خدمت میں ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ پانچ نمازوں کا ذکر قرآن کریم میں کہاں ہے؟ اس کے جواب میں آپ نے فرمایا:۔و صلى الله قرآن کریم میں اصول دین بیان فرمائے ہیں اور اس کی تشریح اور تفصیل کو رسول کریم عملے کے اوپر وحی خفی کے ذریعہ سے یا وحی غیر متلو کے ذریعہ سے ظاہر کیا ہے۔جب ہم رسول کریم ﷺ کے ذریعہ سے اس تشریح کوسن لیتے ہیں تو وہ مسئلہ اپنی تفصیلی صورت میں ہمارے سامنے آ جاتا ہے۔قرآن کریم میں آیا ہے کہ يُقِيمُونَ الصَّلوةَ ، اَقِيْمُوا الصَّلوةَ 2 تم نماز پڑھو۔یہ قرآن کریم نے نہیں بتایا کہ نماز کس طرح پڑھو۔اس معاملہ میں تفصیلی نماز جو تھی وہ محمد رسول اللہ ﷺ کے سپرد کی کہ وہ بیان فرمائیں۔بعض لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ نہیں نماز کی تفصیل قرآن میں موجود ہے اور قرآن کریم کے بعض الفاظ سے جہاں سجدہ رکوع وغیرہ کا ذکر آتا ہے استدلال کرتے ہیں کہ ان میں نماز کا ذکر ہے حالانکہ قرآن میں اس طرح سارے کے سارے اس ترتیب کے ساتھ اکٹھے کہیں بھی بیان نہیں اور پھر اگر ان ارکان کا متفرق ذکر ہے تو یہ کہیں بھی ذکر نہیں کہ یہ فرض نماز کا جز ہے۔اگر اس طرح رکوع اور سجدہ کے ذکر سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ یہ نماز ہے اور نماز کی تشریح قرآن میں آ گئی ہے تو قرآن کریم میں تو یہ بھی ذکر ہے کہ مومن اپنے پہلو پر ذکر کرتے ہیں تو نماز میں ایک شاخ پہلو کی بھی نکالنی چاہئے۔اگر سجدہ کے ذکر سے یہ نکال لیا جا سکتا ہے کہ یہی تشریح قرآن میں بیان کی گئی ہے تو عَلَى جُنُوبِهِمْ 3 کے لفظ سے یہ بھی