سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 202 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 202

سيرة النبي علي 202 جلد 2 نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ سارے پہلو کے بل لیٹ جائیں اور خدا کا ذکر کیا کریں مگر اہل قرآن ہم نے کبھی نہیں دیکھا کہ پہلو کے بل لیٹ کر نماز پڑھتے ہوں۔کیا اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ وہ جو رکوع اور سجود کو قرآن کا رکن بناتے ہیں تو محض ہم لوگوں کی نماز کی نقل سے ورنہ اگر یہ نماز نہ ہوتی تو وہ یہ نتیجہ بھی نہ نکال سکتے۔حکم تو وہ ہوتا ہے جو بغیر نمونہ دیکھنے کے بھی سمجھ میں آ جائے۔مکمل تو ہم تب سمجھتے۔پہلے وہ ہماری نماز دیکھتے لیتے ہیں پھر اس کے ٹکڑوں کو قرآن سے نکالنے بیٹھتے ہیں۔بات تو تب ہے کہ بغیر اس نماز کے دیکھنے کے ان ٹکڑوں سے کوئی نماز بنا دیوے۔یہ کوئی نہیں کر سکتا۔نماز کی تکمیل صرف سنت سے ہی معلوم ہوتی ہے۔اگر کوئی کہے تو پھر قرآن نامکمل ہوا۔تو ہمارا یہ جواب ہے کہ قرآن نامکمل نہیں ، قرآن مکمل ہے اور اس میں ہر ایک بات موجود ہے۔بلکہ قرآن نے یہ فرما دیا لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ 4 تو قرآن نے ساری رسول کی بتائی ہوئی باتوں کو قرآن میں شامل کر لیا۔جب قرآن کریم نے یہ فرمایا کہ جہاں سے کافر لوٹتے ہیں وہاں سے تم بھی حج میں لوٹا کرو اور باوجود اس کے کہ اتنا حصہ مسئلہ کا ہمیں کافروں سے پوچھنا پڑا لیکن سکھانے والے کا فرنہیں ہوئے بلکہ قرآن ہوا۔صلى الله عليه اسی طرح جب قرآن کریم پر بیان فرما دیا کہ محمد رسول اللہ علیہ کو شارع مشرح مقرر کر دیا ہے اس کے عمل کو دیکھ لو یہی ہمارا منشاء ہے تو محمد رسول اللہ ﷺ کی بتائی ہوئی نمازیں قرآن کی ہی بتائی ہوئی نمازیں ہوئیں۔قرآن ہی نے ہمیں ان کی طرف بھیجا صلى الله ہے ہم اپنی مرضی سے ان کی طرف نہیں گئے۔اگر قرآن یہ نہ کہتا کہ محمد رسول اللہ یہ کا عمل ہی خدا کا منشاء ہے تو ہم کبھی محمد رسول اللہ ﷺ کے عمل کی طرف نہ دیکھتے۔پس پانچوں نمازیں قرآن میں ہیں بھی اور نہیں بھی۔ہیں تو اس طرح کہ قرآن کریم نے نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے اور پھر کہہ دیا کہ تفصیل جا کے رسول اللہ ﷺ کے عمل میں دیکھ لو۔اور نہیں اس طرح کہ جس ترتیب اور جس طریق پر نمازیں ہم لوگ پڑھتے ہیں اس ترتیب