سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 7

سيرة النبي ع 7 جلد 2 ہیں کہ دن بدن شراب میں غرق ہوتے جا رہے ہیں۔امریکہ میں شراب کی مخالفت ہوئی اور جنگ کے دوران میں ان لوگوں نے اس کو چھوڑا بھی۔مگر اب امریکہ والے کہتے ہیں ولسن (Wilson) ( پریذیڈنٹ ) ہوتا کون ہے جو ہم سے شراب چھڑائے۔وہ شراب کی مضرات سے واقف ہیں۔وہ قائل ہیں کہ شراب ان کی نسلوں کو کمزور اور ان کی دماغی حالتوں کو ضعیف کر رہی ہے اور وہ اقرار کرتے ہیں کہ شراب کے باعث موتیں زیادہ ہوتی ہیں مگر وہ لوگ نہیں چھوڑ سکتے۔اور جب بڑی جد و جہد سے کچھ دنوں کے لئے چھوڑتے ہیں تو حکام کو کہتے ہیں تم کون ہو جو ہم سے چھڑا ؤ۔گویا وہ ان کی عادت ان سے علیحدہ نہیں ہو سکتی۔عادت کے مقابلہ میں تمام علوم ، تمام تجارب پیچ ہیں۔مگر محمد رسول اللہ اللہ اس قوم سے جو شراب پر فخر کرنے والی ہے شراب پینا چھڑاتے ہیں اور اس طرح چھڑاتے ہیں کہ گویا وہ قوم شراب کا نام تک بھول جاتی ہے۔کیا یہ معجزہ نہیں؟ پھر وہ سوتیلی ماؤں کو نکاح میں لاتے تھے اور زنا پر فخر کرتے تھے۔ان کو کہہ دیا گیا حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ أُمَّهُتُكُمْ 1 تمہاری سب قسم کی مائیں تم پر حرام ہیں خواہ وہ سوتیلی ہوں یا حقیقی اور وہ اس حکم کو بلا چون و چرا تسلیم کرتے اور جن کے قبضہ میں ایسی عورتیں ہیں ان کو اپنے سے علیحدہ کر دیتے ہیں۔اطاعت کا مادہ عرب جیسی اکھڑ قوم میں پھر ان کی سب سے بڑی بات ان کی حریت تھی اور اس پر وہ ایسا فریفتہ و گرویدہ تھے کہ اگر کوئی شخص ان کو کہہ دیتا تھا کہ مجھے فلاں چیز پکڑا دو اور اس کہنے میں کسی عظمند کے نزدیک کوئی بے عزتی نہیں مگر ان کی بے عزتی ہو جاتی تھی اور وہ اس بات سے بگڑ کر بادشاہوں تک کی گردن اڑا دیتے تھے آنحضرت ان میں اتنا تغیر پیدا کر دیتے ہیں گویا کہ ان کی ہستیوں کو بدل دیا اور انہیں اور مخلوق سے انسان بنا دیا۔میں چند واقعات بیان کرتا ہوں جس سے پتہ لگے گا کہ وہ حریت کے دلدادہ محمد رسول اللہ علی کے حکموں پر طرح نثار ہوتے ہیں اور اس صلى الله