سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 193 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 193

سيرة النبي ع 193 جلد 2 دوسروں کے مال کی حفاظت کرتے تھے نہ کہ آپ کے پاس بھی مال تھا۔بے شک آپ کو لوگ نیک کہتے تھے مگر اس کے یہ معنی تو نہیں کہ لوگ آپ کی اطاعت بھی کریں۔چنانچہ جب آپ کو خدا نے کہا کہ اٹھ اور ان لوگوں کو ڈرا تو وہی لوگ جو آپ کو نیک کہتے تھے آپ کے مخالف ہو گئے۔تو دنیاوی لحاظ سے آپ کے پاس کچھ بھی نہ تھا اور ظاہری سامان جن سے دنیا میں رتبہ اور درجہ حاصل ہوتا ہے وہ آپ کے پاس نہ تھے مگر جب خدا تعالیٰ نے چاہا کہ اس وادی غیر ذی زرع سے ایک ایسا انسان اٹھاؤں جو دنیا کو ایک خدا کی طرف کھینچ لائے اور ایک مرکز پر جمع کر دے تو کوئی روک نہ سکا۔آپ کا وجود گویا ایک پیج تھا جو بڑھتے بڑھتے ایک بڑا درخت بن گیا اور آپ ہی دنیا کے بادشاہ نہ بن گئے بلکہ آپ کے غلام بھی بادشاہ ہو گئے۔حضرت ابوبکر کے متعلق آتا ہے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے اور حضرت ابوبکر کے والد کو یہ خبر پہنچی تو انہوں نے پوچھا اب کیا انتظام ہوگا ؟ ان کو بتایا گیا کہ ابوبکر خلیفہ ہو گیا ہے۔اس پر انہوں نے کہا کونسا ابوبکر ؟ جب کہا گیا آپ کا بیٹا تو انہوں نے کہا کیا ابو قحافہ کا بیٹا ؟ گویا ان کے خیال میں یہ بات آ ہی نہیں سکتی تھی کہ ان کا بیٹا بھی خلیفہ ہو سکتا ہے۔حالانکہ جب حضرت ابوبکر کا نام لیا گیا تو قدرتی طور پر انہیں اپنے بیٹے کا خیال آنا چاہئے تھا۔مثلاً اگر عبد اللہ نام کا بادشاہ ہو اور اسی نام کا ایک شخص کا بیٹا ہو تو جب اسے کہا جائے عبد اللہ آ گیا تو وہ یہ نہیں خیال کرے گا کہ بادشاہ آ گیا بلکہ یہی سمجھے گا کہ اس کا بیٹا آ گیا۔پس قدرتی طور پر انہیں اپنے بیٹے کے متعلق خیال آنا چاہئے تھا مگر انہوں نے پوچھا کون ابوبکر ؟ وہ بہت بعد میں اسلام لائے تھے۔جب انہیں بتایا گیا کہ آپ کا بیٹا تو انہوں نے کہا کہ مجھے آج ہی پتہ لگا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایسا اثر ہے کہ ابوقحافہ کے بیٹے کو عربوں نے سردار مان لیا ہے 4۔حضرت ابوبکر جس قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے اس کا کوئی جتھا نہ تھا اور سیاسی طور پر کمزور تھا۔یوں تو لوگ انہیں نیک سمجھتے تھے ، وہ ان کے لڑائی جھگڑوں میں صلح صفائی