سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 174 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 174

سيرة النبي علي 174 جلد 2 کے اعلیٰ مقامات سے محروم کرنے والے ہیں۔جس طرح پہلا خیال اسلام کے لئے تباہ الله کرنے والا ہے اسی طرح یہ دوسرا خیال بھی رسول کریم ﷺ کی ذات پر ایک خطرناک حملہ ہے اور ہم نہ اسے قبول کرتے ہیں اور نہ اسے برداشت کر سکتے ہیں۔ہمارا یقین ہے کہ رسول کریم ﷺ دنیا کے لئے رحمت تھے اور ہمارا پکا یقین ہے کہ یہ بات ہر ایک آنکھ رکھنے والے کو نظر آ رہی ہے۔آپ نے آ کر دنیا کو فیوض سماوی سے محروم نہیں کر دیا بلکہ آپ کے آنے سے اللہ تعالیٰ کے فیوض کی روانی پہلے سے بہت زیادہ ہوگئی ہے۔اگر پہلے وہ ایک نہر کی طرح بہتے تھے تو اب ایک دریا کی طرح بہتے ہیں کیونکہ پہلے علم اپنے کمال کو نہیں پہنچا تھا اور علم کامل کے بغیر عرفان کامل بھی حاصل نہیں ہوسکتا اور اب علم اپنے کمال کو پہنچ گیا ہے۔قرآن کریم میں وہ کچھ بیان کیا گیا ہے جو اس سے پہلے کی کتب میں بیان نہیں کیا گیا تھا۔پس رسول کریم ﷺ کے طفیل لوگوں کو عرفان میں زیادتی حاصل ہوئی ہے اور عرفان میں زیادتی کی وجہ سے اب وہ ان اعلیٰ مقامات پر پہنچ سکتے ہیں جن پر پہلے لوگ نہیں پہنچ سکتے تھے۔اور اگر یہ ایمان نہ رکھا جائے تو پھر رسول کریم ﷺ کو دوسرے انبیاء پر کیا فضیلت رہ جاتی ہے۔پس ہم الله اس قسم کی نبوت سے تو منکر ہیں جو رسول کریم ﷺ سے آزاد ہو کر حاصل ہوتی ہو اور اسی وجہ سے ہم رسول کریم ﷺ کے بعد مسیح ناصری کی آمد سے منکر ہیں مگر ہم اس قسم کی نبوت کی نفی نہیں کر سکتے جس سے رسول کریم ﷺ کی عزت بالا ہوتی ہو۔اے امیر! اللہ تعالیٰ آپ کے دل کو مہبط انوار بنائے اور آپ کے سینے کو حق کی قبولیت کیلئے وسیع کرے۔وہی نبوت پہلے نبی کے سلسلے کو ختم کر سکتی ہے جو شریعت والی نبوت ہو اور وہی پہلے نبی کی شریعت کو منسوخ کر سکتی ہے جو بلا واسطہ حاصل ہو لیکن جو نبوت کہ پہلے نبی کے فیض سے اور اس کی اتباع سے حاصل ہو اور جس کی غرض پہلے نبی کی نبوت کی اشاعت ہو اور اس کی عظمت اور اس کی بڑائی کا اظہار ہو وہ پہلے نبی کی ہتک کرنے والی نہیں بلکہ اس کی عزت کو ظاہر کرنے والی ہے اور اس قسم کی نبوت