سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 170
سيرة النبي عمال 170 جلد 2 مدد کے لیے بلانا پسند نہیں کرتے اور اگر کوئی خود بخود ان کی مدد کے لئے تیار ہو جائے تو اس کا احسان ماننے کے بجائے اس پر ناراض ہوتے ہیں کہ کیا ہم جاہل ہیں کہ تو ہمارے منہ میں لقمہ دیتا ہے لیکن رسول کریم ﷺ کی نسبت کس بے پرواہی سے بیان کرتے ہیں کہ آپ کی مدد کے لئے ایک دوسرے سلسلے سے نبی بلوایا جائے گا اور خود آپ کی قوت قدسیہ کچھ نہ کر سکے گی۔آہ! کیا دل مر گئے ہیں یا عقلوں پر پتھر پڑ گئے ہیں؟ کیا سب کی سب غیرت اپنے ہی لئے صرف ہو جاتی ہے اور خدا اور اس کے رسول کے لئے غیرت کا کوئی حصہ باقی نہیں رہتا؟ کیا سب غصہ اپنے دشمنوں پر ہی صرف ہو جاتا ہے اور خدا اور اس کے رسول پر حملہ کرنے والوں کے لئے کچھ نہیں بچتا ؟ ہم سے کہا جاتا ہے کہ کیوں تم ایک اسرائیلی نبی کی آمد کے منکر ہومگر ہم اپنے دلوں صلى الله کو کہاں لے جائیں اور اپنی محبت کے نقش کس طرح مٹائیں ہمیں تو محمد رسول اللہ ﷺ کی عزت سے بڑھ کر کسی اور کی عزت پیاری نہیں، ہم تو ایک منٹ کیلئے بھی یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ محمد رسول اللہ علیہ کسی اور کے ممنون احسان ہوں، ہمارا دل تو ایک منٹ کے لئے بھی اس خیال کو برداشت نہیں کر سکتا کہ قیامت کے دن جب تمام مخلوق از ابتدا تا انتہا جمع ہوگی اور عَلی رُؤُوسِ الاشهاد ہر ایک کے کام بیان کئے جائیں گے اُس وقت محمد رسول اللہ ﷺ کی گردن مسیح اسرائیلی کے احسان سے جھکی جا رہی ہو گی اور تمام مخلوق کے سامنے بلند آواز سے فرشتے پکار کر کہیں گے کہ جب محمد رسول اللہ کی قوت قدسیہ جاتی رہی تو اُس وقت مسیح اسرائیلی نے ان پر احسان کر کے جنت میں سے نکلنا اپنے لئے پسند کیا اور دنیا میں جا کر ان کی امت کی اصلاح کی اور اسے تباہی سے بچایا۔ہم تو اس امر کو بہت پسند کرتے ہیں کہ ہماری زبانیں کٹ جائیں بہ نسبت اس کے کہ ایسی ہتک آمیز بات رسول کریم ﷺ کی طرف منسوب کریں اور ہمارے ہاتھ شل ہو جائیں بجائے اس کے کہ ایسے کلمات آپ کے حق میں تحریر کریں۔محمد رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے محبوب ہیں ، آپ کی قوت قدسیہ کبھی باطل نہیں